کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان میں کم عمری کی شادی کی ممانعت سے متعلق بل اپوزیشن اراکین کے بھرپور احتجاج کے دوران صوبائی اسمبلی میں منظور کرلیاگیا، بل پیش کرنے اور منظوری کے دوران ایوان میں خوب گرما گرمی دیکھی گئی، اپوزیشن ارکان کی جانب سے خوب ہنگامہ اورشور شرابا کیا گیا،اس دوران اسپیکر کے ڈائس کا گھیراو کیاگیا اور بل کی کاپیاں بھی پھاڑ دی گئیں۔اسپیکر اسمبلی عبدالخالق اچکزئی کی زیرصدارت بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں کم عمری کی شادی کی ممانعت کے حوالے سے مسودہ قانون پیش کیا گیا جس پر اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف یونس زہری کا کہنا تھا کہ یہ بل قرآن و سنت کے منافی ہے، یہ بل غیر سرکاری تنظیم کو خوش کرنے کے لئے لایا جارہا ہے، جس پر وزیراعلی کا کہنا تھا کہ شریعت کورٹ پاکستان کی سب سے بڑی کورٹ ہے،اس کاججمنٹ آپ کوسنایاہے، ایوان میں یونس زہری نے احتجاجا ایجنڈے کی کاپی پھاڑ دی بل پیش کرنے کے دوران اپوزیشن ارکان نے ہنگامہ اورشور شرابا کیا، اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اچھالیں، احتجاج، شور اور ہنگامے کے باوجودکم عمری کی شادی سے متعلق پیش کردہ بل منظور کرلی گئی،اپوزیشن رکن اسمبلی اصغر ترین کا کہنا تھا کہ ایوان میں بل پیش تو کردیا ہم اس کے خلاف عدالت میں جائیں گے، اس موقع پر اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا،اسپیکر نے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 17 نومبر سہ پہر 3 بجے تک کیلئے ملتوی کردی۔
بلوچستان میں کم عمری کی شادی کی ممانعت سے متعلق بل اپوزیشن اراکین کے بھرپور احتجاج کے دوران صوبائی اسمبلی میں منظور کرلیاگیا

ٹیگز:
بلوچستان
