اسلام آباد (ڈیلی گرین گوادر) پاکستان انجینئرنگ کونسل(پی ای سی) نے چیئرمین انجینئر وسیم نذیر کی دور اندیش قیادت میں پاکستانی انجینئرز کے لیے بین الاقوامی روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ایک تاریخی اقدام کا آغاز کیا ہے۔ انجینئرز آسٹریلیا کے ساتھ تعاون اور پاکستان کے قونصل جنرل سڈنی کی معاونت سے پی ای سی پاکستانی انجینئرز کو آسٹریلیا کی ابھرتی ہوئی انجینئرنگ مارکیٹ تک رسائی دینے کے لیے سرگرم عمل ہے۔اس اقدام کے تحت پی ای سی اور پاکستان کے قونصل جنرل آفس سڈنی نے مشترکہ طور پر ایک جامع ویبینار کا انعقاد کیا جس میں ممتاز ماہرینِ صنعت اور پالیسی رہنماں نے شرکت کی۔ اس سیشن میں پاکستانی انجینئرز کو آسٹریلیا میں کامیاب انجینئرنگ کیریئر بنانے کے حوالے سے عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ اہم موضوعات میں پیشہ ورانہ ترقی کے راستے، آسٹریلیا کے انجینئرنگ شعبے میں موجود مواقع، اور واشنگٹن اکارڈ کے دائرہ کار سے باہر انجینئرز کے لیے کمپیٹنسی ڈیمانسٹریشن رپورٹ (CDR) تیار کرنے کی رہنمائی شامل تھی۔ویبینار کے اختتامی کلمات میں چیئرمین انجینئر وسیم نذیر نے پی ای سی کے نئے کونٹینیوئنگ پروفیشنل ڈویلپمنٹ (CPD) فریم ورک کے انقلابی کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ای سی نے عالمی معیار کے مطابق کورسز متعارف کرائے ہیں تاکہ پاکستانی انجینئرز کو بین الاقوامی ملازمتوں کے لیے تیار کیا جا سکے اور ان کی پیشہ ورانہ اہلیت کو یقینی بنایا جا سکے۔اس تعاون کو باضابطہ شکل دینے اور مضبوط کرنے کے لیے پی ای سی نے انجینئرز آسٹریلیا کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت پاکستانی انجینئرز کو بین الاقوامی سطح پر نقل و حرکت اور پیشہ ورانہ شناخت کی سہولت ملے گی اور انہیں آسٹریلیا میں کیریئر کے مواقع اور پروفیشنل ایکریڈیشن تک آسان رسائی حاصل ہوگی۔چیئرمین پی ای سی انجینئر وسیم نذیر نے کہا کہ پی ای سی نے اپنے عالمی وژن کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے اسلام آباد میں اپنے ہیڈکوارٹرز میں ایک خصوصی گلوبل لنکیجز ڈویژن قائم کیا ہے۔ یہ نیا پلیٹ فارم انجینئرز کی بین الاقوامی ملازمتوں اور ان کی سرحد پار نقل و حرکت کو فعال طور پر فروغ دینے کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ پاکستانی انجینئرز کو بااختیار بنایا جا سکے اور عالمی انجینئرنگ پیشے میں ان کے کردار کو مزید بہتر بنایا جا سکے
پاکستانی انجینئرز کی آسٹریلیا میں معاونت کے لیے پی ای سی کا اقدام

ٹیگز:
پاکستانی انجینئرز
