گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد آئندہ 2 ماہ کے لیے پریس کانفرنس میں مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا۔گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے شرح سود برقرار رکھنے کے اسباب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مالی سال ہماری مہنگائی کی شرح 4.5 فیصد رہی جو کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کے مقرر کردہ ہدف سے معمولی کم تھی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال خوردنی اشیا کی مہنگائی میں بڑی کمی آئی، اس کے ساتھ ساتھ بنیادی مہنگائی کی مجموعی شرح میں بھی آہستہ آہستہ کمی آئی، گزشتہ ماہ جون میں مہنگائی کی بنیادی شرح 7.5 فیصد پر آگئی، اسی طرح پچھلے ماہ جون میں مجموعی مہنگائی کی شرح 3.2 فیصد تھی۔انہوں نے کہا کہ اپریل میں مہنگائی مجموعی شرح 0.3 فیصد کی کم ترین سطح پر آکر بڑھنا شروع ہوگئی اور پچھلے 2 ماہ میں مہنگائی کی مجموعی شرح میں اضافہ ہوا ہے، آئندہ سال کی ابتدا میں بھی مہنگائی کی مجموعی شرح میں پہلے کم پھر زیادہ اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہاکہ توانائی کی قیمتوں میں کچھ کم ردو بدل ہوا ہے اور آگے چل کر اس کے بنیادی اثرات سازگار نہیں رہیں گے، اور اس کے اثرات اگلے سال سامنے آئیں گے، اس کے علاوہ کمیٹی نے بیرونی کھاتوں کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور تو ان عوامل کو دیکھتے ہوئے شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہاکہ بیرونی کھاتوں کا خاص طور پر جائزہ لیا گیا، گزشتہ مالی درآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، مالی سال 2024 میں 53 ارب ڈالر کی درآمدات تھیں، جو 2025 میں11.1 فیصد اضافے سے 59.1 ارب ڈالر ہوگئیں۔انہوں نے کہا کہ نان آئل امپورٹس میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے تو تیل کے شعبے کے علاوہ دیگر شعبوں کی درآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔جمیل احمد نے کہا کہ گزشتہ سال برآمدات 4 فیصد سے تھوڑی اوپر بڑھی ہیں جو کہ کم تھیں اور ان میں اضافہ ہونا چاہیے تھا، تاکہ تجارتی خسارہ کم ہوسکے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ گزشتہ سال زرمبادلہ میں بہت اچھا ہوا ہے جو کہ 38.3 ارب ڈالر رہیں، جو کہ اس سے پچھلے سال تقریباً 30 ارب ڈالر تھیں اور ان میں تقریباً 8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔
اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

