لاہور کے علاقے منصورہ میں حق دو بلوچستان مارچ کے لیے تیار جماعت اسلامی کے کارکن اور پولیس آمنے سامنے آگئے، دوسری جانب سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی قیادت میں حکومتی وفد جماعت اسلامی سے مذاکرات کے لیے منصورہ پہنچ گیا۔نجی نیوز کے مطابق جماعت اسلامی کے کارکنوں نے حق دو بلوچستان مارچ کے لیے منصورہ سے نکلنے کی کوشش کی جس پر پولیس سامنے آگئی اور دھکم پیل ہوئی۔مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا تھا کہ قافلے کا راستہ روکناامن کا راستہ توکنا ہے،بلوچستان کا حق لینے اسلام آباد جانے سے کوئی نہیں روک سکتا،جماعت اسلامی کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ سے پہلے پنجاب حکومت کی مذاکراتی ٹیم دوسرے روز بھی منصورہ پہنچ گئی، سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب اور جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ مذاکرات میں شامل ہیں۔واضح رہے کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا ہدایت الرحمٰن کی قیادت میں حق دو بلوچستان مارچ کو گزشتہ روز لاہور سے اسلام آباد روانہ ہونا تھا تاہم لاہور پولیس نے گزشتہ روز جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ کی ناکہ بندی کرتے ہوئے اس کے مرکزی دروازے پر درجنوں اہلکار تعینات کردیے تھے۔سسینئر وزیر مریم اورنگزیب نے گزشتہ روز بھی منصورہ پہنچ کر لیاقت بلوچ کی زیرقیادت جماعت اسلامی کے وفد سے مذاکرات کیے تھے، حکومت کا اصرار تھا کہ جماعت اسلامی حق دو بلوچستان مارچ کو منصورہ میں ختم کردے جبکہ جماعت اسلامی نے ہرحال میں اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا تھا۔
لانگ مارچ کے شرکا اورپولیس میں ہاتھا پائی،قافلے کا راستہ روکناامن کا راستہ روکنا ہے، ہدایت الرحمان

