سوراب(یو این اے)مون سون کی پہلی بارش نے گدر کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کی لہر کو تو کم کر دیا، لیکن اس کے ساتھ ہی ایسی تباہی بھی چھوڑ گئی جس نے مقامی آبادی کو ہلا کر رکھ دیا۔ تیز ہواں اور موسلا دھار بارش کے باعث متعدد علاقوں میں انفرا اسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا ہے، خاص طور پر شانہ شکرڈن اور گوندان کے علاقے شدید متاثر ہوئے،گزشتہ روز ہونے والی طوفانی بارشوں اور آندھیوں نے ان علاقوں کا نقشہ بدل دیا ہے،کچے مکانات سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جبکہ متعدد رہائشی مکانات مکمل طور پر منہدم ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے،اور مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ شدید بارش اور ہواں نے مکانات کی چھتیں اڑا دیں، دیواریں گرا دیں اور گھریلو سامان کو ناقابلِ استعمال بنا دیا،آندھی نے صرف رہائشی عمارات کو ہی نہیں بلکہ زرعی اور صنعتی مشینری کو بھی نشانہ بنایا۔ خاص طور پر وہ مشینیں جو سولر انرجی پر چل رہی تھیں، بری طرح متاثر ہوئیں۔ کئی مشینوں کے سولر پینلز مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں،متاثرہ علاقوں کے مکین شدید پریشانی کا شکار ہیں اور انہیں فوری حکومتی امداد، کی ضرورت ہے, ضلعی انتظامیہ سوراب نے نقصانات کا تخمینہ لگانا شروع کر دیا ہے جبکہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر مستقبل قریب میں مزید بارشوں کی پیشگوئی نے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ادھر ڈھاڈر، سنی اور گردونواح کے پہاڑی علاقوں میں گزشتہ شب شدید طوفانی بارش کے باعث ڈھاڈر اور سنی کے کئی دیہات زیرِ آب آگئے۔ محکمہ ایریگیشن کے مطابق بولان ندی اور سنی ندی میں 2300 کیوسک کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے۔سیلابی ریلے نے تحصیل سنی کے رودی پل کو بہا کر لے گیا، جس کے نتیجے میں سنی، شوران اور اردگرد کے 20 سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک گاڑی بھی سیلاب میں بہہ گئی، تاہم مقامی افراد نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گاڑی میں سوار دونوں افراد کو بحفاظت نکال لیا۔ڈپٹی کمشنر کچھی کے مطابق کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم سیلابی صورتحال کے پیش نظر امدادی اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
سوراب، ڈھاڈر سمیت متعدد اضلاع میں بارش سے تباہی، کچے مکانات منہدم ،پل بہہ گئے

