کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مون سون بارشوں کا سلسلہ زور پکڑ گیا ہے اور صوبے میں مون سون کا دوسرا اسپیل آج سے باضابطہ طور پر شروع ہو چکا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 4 جولائی سے 8 جولائی تک بلوچستان کے 20 اضلاع میں مزید بارشیں متوقع ہیں، جن کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ رات سے بارکھان میں 17 ملی میٹر اور خضدار میں 6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں بارکھان، کوہلو اور خضدار میں جل تھل ہو گیا ہے۔ مختلف حادثات میں اب تک 6 افراد آسمانی بجلی گرنے اور آبی ریلوں میں بہہ جانے کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ خضدار اور زیارت میں ایک درجن سے زائد مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ریسکیو اور امدادی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔ پی ڈی ایم اے بلوچستان نے متاثرہ اضلاع میں امدادی سامان روانہ کر دیا ہے اور عملے کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ندی نالوں، ڈیموں، پکنک پوائنٹس اور دیگر خطرناک مقامات سے دور رہیں، جبکہ سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند روز میں مون سون بارشوں کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے باعث مزید نقصانات سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر ناگزیر ہیں۔
بلوچستان میں مون سون بارشوں کا دوسرا اسپیل ، 20 اضلاع میں 8 جولائی تک مزید بارشوں کا امکان

