استنبول (ڈیلی گرین گوادر) ترکیہ کے شہر استنبول میں ایک ہفت روزہ میگزین میں گستاخانہ خاکہ شائع کرنے پرکارٹونسٹ اور ایڈیٹرز کو گرفتار کرلیا گیا۔غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق استنبول میں پیر کو اُس وقت جھڑپیں شروع ہوئیں، جب پولیس نے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ترکیہ میں یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب استنبول کے چیف پراسیکیوٹر نے ’سر عام مذہبی اقتدار کی توہین پر ’لی مین‘ میگزین کے ایڈیٹر کی گرفتار ی کا حکم دیا۔
چیف پبلک پراسیکیوٹر آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’چیف پبلک پراسیکیوٹر آفس نے 26 جون 2025 کے شمارے میں شائع ہونے والے گستاخانہ کارٹون کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جس میں سرعام مذہبی اقدار کی توہین کی گئی ہے، اور اس میں ملوث افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔جیسے ہی یہ خبر سامنے آئی، درجنوں مشتعل مظاہرین نے وسطی استنبول میں اُس بار پر حملہ کر دیا جہاں ’لی مین‘ میگزین کا عملہ اکثر جایا کرتا تھا جس کے بعد مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
ترکیہ کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی گئی پوسٹ میں کہا کہ پولیس نے ’اس متنازع کارٹون‘ کے ذمہ دار کارٹونسٹ، میگزین کے گرافک ڈیزائنر اور عملے کے دیگر 2 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
ترکیہ : استنبول میں گستاخانہ خاکہ شائع ہونے پر جھڑپیں شروع

ٹیگز:
ترکیہ
