چمن (یو این اے )جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ صوبائی نائب امیر جے آئی ڈاکٹر عطا الرحمان الخدمت فاونڈیشن کے صوبائی جنرل سیکرٹری عبدالمجید سربازی جماعت اسلامی یوتھ آرگنائزیشن کے عہدیدار سید تیمورشاہ صوبائی جنرل سیکرٹری قاری امداداللہ ضلعی امیر ڈاکٹر بسم اللہ رودی ودیگر نے پریس کلب چمن میں ایک اہم پریس کانفرنس کیا پریس کانفرنس سے مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ پاکستانی سرحدات سے متصل آبادی کو روزگار کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے پاک اففان و ایران بارڈر پر تجارت کو سمگلنگ کا نام دینا بلوچ پشتون کا معاشی استحصال ہے چمن بارڈر پر 5 سے 10 کلو گھریلو ہینڈ کیری کے ساتھ ساتھ سرحد پر رشتہ داریوں شادی بیاہ اور فاتحہ پر جانے کیلئے اپروول دی جائے سمگلنگ اگر ہے تو اس میں ملوث بڑے مافیا ہے جنہیں کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اس پر ایکشن لیا جائے انہوں نے کہا کہ چمن کے قبائلی و سیاسی معززین کو پاکستانی شناخت ہونے پر ہراساں کیا جارہا ہے لیکن دوسری جانب اعوان میں بیٹھے دوہری شہریت کے حامل ممبران کو کوئی نہیں پوچھتا جو کھلی منافقت ہے اور ہم ایسے اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہیں امن و امان کے حوالے سے کہا گیا کہ سرحدوں کی بندش کے بعد بھی بدامنی میں کوئی کمی نہیں آئی جس کی حالیہ مثال سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانا ہے اور کوئی محفوظ نہیں ہے اعوانوں میں بیٹھے حکمران خوش ہے کہ ملک ہم چلا رہے ہیں لیکن حقیقت کچھ اس کے برعکس ہے اس موجودہ حالات کے خلاف جماعت اسلامی چمن ، گوادر جعفر آباد ژوب و دیگر اضلاع سے عوام کو منظم کرکے اس ظلم و جبر کے خلاف چند دنوں میں اسلام آباد تک لانگ مارچ کا اعلان کریں گے ۔
سرحدی تجارت کو سمگلنگ کہنا بلوچ پشتون کا معاشی استحصال ہے، مولانا ہدایت الرحمان

