شیخ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن محمد بن حمید الخالدی کا شمار عصرِ حاضر کے ان ممتاز علما میں ہوتا ہے جنہوں نے تعلیم، امامت، فقہ، عدلیہ اور مشاورت جیسے اہم میدانوں میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ وہ 1950 میں سعودی عرب کے شہر بریدہ (قصیم) میں پیدا ہوئے۔انہوں نے ابتدائی تعلیم مکہ مکرمہ میں حاصل کی اور 1967 میں ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جامعہ اُم القریٰ میں داخلہ لیا، جہاں سے انہوں نے 1975 میں شریعت میں بیچلر، 1976 میں فقہ و اصولِ فقہ میں ماسٹرز، اور 1982 میں اسی شعبے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد شیخ صالح جامعہ اُم القریٰ میں تدریسی شعبے سے وابستہ ہوئے۔ انہوں نے لیکچرار، اسسٹنٹ پروفیسر، اور بعد ازاں شعبہ معیشتِ اسلامی کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کی قابلیت و قیادت کی بنیاد پر انہیں اعلیٰ اسلامی مطالعات کے مرکز کا نگران اور کلیہ الشریعہ میں اعلیٰ تعلیمات کے معاون سربراہ، پھر اسی کلیہ کے ڈین کے منصب پر فائز کیا گیا۔
شیخ صالح کا مسجد الحرام سے تعلق 1983 میں امامت سے شروع ہوا اور اگلے ہی برس انہیں باضابطہ امام و خطیب مقرر کیا گیا۔ وہ مسجد الحرام میں امامت سنبھالنے والے پہلے عالم ہیں جن کے پاس فقہ میں پی ایچ ڈی کی سند تھی۔ بعد ازاں انہیں حرمین شریفین کے امور کے نائبِ اعلیٰ اور 2001 میں صدرِ اعلیٰ کے منصب پر فائز کیا گیا۔ ان کی مشاورتی خدمات کا آغاز 1994 میں مجلس الشورى (مجلسِ مشاورت) کی رکنیت سے ہوا۔ 2002 میں شاہی فرمان کے تحت وہ مجلس الشورى کے صدر مقرر ہوئے۔ 2009 میں انہیں اعلیٰ مجلسِ عدالت (المجلس الأعلى للقضاء) کا سربراہ مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے شیخ صالح اللحیدان کی جگہ سنبھالی۔ 2012 میں انہوں نے رضاکارانہ طور پر اس منصب سے سبکدوشی اختیار کی اور انہیں شاہی دیوان میں وزیرِ مرتبہ مشیر مقرر کیا گیا۔
خطبہ حج دینے والے شیخ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ کون ہیں؟

ٹیگز:
صالح بن عبداللہ
