کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہاکہ نجی تعلیمی ادارے ناخواندگی کم کرنے معاشرے کوپڑھے لکھے افراددینے میں اہم کرداراداکررہے ہیں تعلیمی اداروں میں تعلیم کیساتھ کردارسازی اخلاقی تربیت پربھی زوردیاجائے بلوچستان میں جماعت اسلامی اورجماعت کے ممبرزکے تعلیمی اداروں میں چالیس ہزاربچے زیر تعلیم ہیں۔تعلیم کوکاروبارنہیں خدمت کے تحت چلارہے ہیں۔”تعلیم صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مقدس امانت ہے”تحریکی اداروں کو قوم کی فکری و اخلاقی قیادت کے لیے تیار کیا جائے۔جماعت اسلامی کی اصل طاقت اُس کا تعلیمی و نظریاتی سرمایہ ہے، جسے مزید مؤثر اور مربوط بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹریٹ میں جماعتی وارکان کے تعلیمی اداروں کے سربراہان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیااجلاس میں تعلیمی اداروں کے مالکان،پرنسپلزوڈائریکٹرززاہدا ختربلوچ،محمدنوازپندرانی،عبدالعابدرند،آغاگل شاہ،عبدالنعیم رند،عبدالولی خان شاکر،طیب فرید خان،پروفیسر محمد ابراہیم ابڑو،حافظ نورعلی،اعجازمحبوب،سمیع اللہ مشوانی،اعجازساسولی،ڈاکٹرنیازعلی ساسولی،عمر خان،علی احمد،دلشادوقار،امین اللہ کاکڑ،خلیل الرحمان شاہوانی،حاجی خاطر خان جمالی،علی احمد،عبدالستارنے شرکت کی اجلاس میں نجی تعلیمی اداروں کے مسائل رجسٹریشن,حکومتی سطح پر نمائندگی,دفاترمیں افسرشاہی بلیک میلنگ،کلاس 8thبورڈامتحان کے نقصانات,9thکلاس بورڈرجسٹریشن بی فارم شرط,دونمبری,سرکاری سطح پرامتحانات ناقص نظام,نقل سفارش رشوت روک تھام سمیت جماعت اسلامی کی طرف سے رابطے,نگرانی,طلباء کی اخلاقی تربیت ودیگرمسائل اوران کے حل کے حوالے سے مشاورت وفیصلے ہوئے۔اجلاس میں تربیتی و اخلاقی بہتری,جماعت اسلامی کے تعلیمی وکے تحریکی مشن کوآگے بڑھانے کیلیے مشترکہ حکمتِ عملی تیار کی گئی۔اداروں کو درپیش مسائل تعلیمی معیار میں یکسانیت کا فقدان,اساتذہ کی تربیت کی کمی,مالی وسائل کی قلت,طلبہ و اساتذہ کی دینی و اخلاقی تربیت میں بہتری کی ضرورت,جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگی کے حوالے سے بھی باہمی مشاورت ہوئی۔تربیتی امورکے حوالے سے شرکاء نے کہاکہ اسکول سطح پر باقاعدہ تربیتی ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاداوراساتذہ کے لیے ہفتہ وار اور ماہانہ دینی و اخلاقی سیشنزہونے چاہیے۔طلبہ کے لیے سیرت النبی ﷺ، دینی معلومات اور اسلامی تربیت پر خصوصی کلاسزکیساتھ اسکول سربراہان کے لیے سالانہ پلاننگ و تنظیمی نشستوں کی بھی ضرورت پر زوردیاگیا۔اجلاس میں مستقبل کیلئے یہ تجاویزدی گئی کہ ہر اسکول میں تربیتِ معلم کا مستقل نظم,جماعت اسلامی کی مرکزی تعلیمی پالیسی کے مطابق نصاب و نظم میں بہتری,باہمی روابط مضبوط کرنے کے لیے اسکولز نیٹ ورک کا قیام,کامیاب اسکولز کے ماڈل کو دیگر اداروں تک وسعت دیناچاہیے۔مولاناہدایت الرحمان بلوچ نے مزیدکہاکہ تمام اسکولز سربراہان کو اپنی سالانہ تعلیمی و تربیتی رپورٹ مرتب کرناچاہییآئندہ اجلاس میں ہر ادارہ اپنی حکمتِ عملی، اہداف اور درپیش چیلنجز کے ساتھ شریک ہو۔ایک مرکزی تربیتی سیل کے قیام پر غوربھی کیاگیا۔ جماعت اسلامی کا تعلیمی نیٹ ورک ملک کی فکری و نظریاتی قیادت کے لیے بنیادی ستون بنے گا۔
تعلیمی اداروں میں تعلیم کیساتھ کردارسازی اخلاقی تربیت پربھی زوردیاجائے،مولانا ہدایت الرحمان بلوچ

