اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نےکہاہےکہ پانی بحران مزید سنگین ہوجائیگا،پاکستان کا80فیصد پانی گلیشیئرسے آتا ہے جو گلوبل وارمنگ سے متاثر ہورہے ہیں،عالمی یوم ماحولیات کی میزبانی پاکستان کااعزاز،عالمی برادری نے تسلیم کیاکہ ہمیں آئندہ نسلوں کی فکر ہےاسکے لئے ترقی یافتہ ممالک فنڈز دیں دنیا کے بڑے ممالک کاربن کا اخراج کم کریں،2030 تک ہم 60فیصد بجلی قابل تجدید توانائی پر منتقل کردینگے، 20فیصد گاڑیاں بجلی سے چلیں گی،قوم بالخصوص طلبا 10ارب درخت لگانے میں ساتھ دیں اس سے ماحولیات و پانی کے مسائل حل ہونگے ، موسم میں غیر یقینی تبدیلیاں ختم ہونگی آکسیجن سپلائی بہتر ہوگی ، آلودگی میں کمی آئیگی اور وائلڈ لائف کو تحفظ ملے گا،دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ نے عالمی یوم ماحولیات 2021کی کامیاب میزبانی پر پاکستان کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کی اور کہاکہ ماحولیات کے شعبہ کی ترقی کے لئے پاکستان کاساتھ دینے کو تیار ہیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ کوئی ایک مسئلےسے نہیں نمٹ سکتا، سب کو مل کر اقدامات کرنا ہونگے،برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ٹین بلین ٹری سونامی جیسے بڑے منصوبوں کو قدرتی ماحول کے تحفظ و بحالی کی جانب اہم پیشرفت قرار دیااور کہاکہ ہم پاکستانی اقدامات کی بھرپور حمایت کرتے ہیں ہفتے کو وزیراعظم عمران خان نے عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر کنونشن سینٹر میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لئے عالمی یوم ماحولیات کی تقریب کی میزبانی ایک بڑا اعزاز ہے ، انہیں خوشی ہے کہ بہت جلد پاکستان ماحولیات کے حوالے سے کاوشوں میں عالمی نقشہ میں آگیا ، دنیا اب اس کا ادراک کرتی ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لئے اقدامات اٹھا رہاہے انہوں نے کہاکہ یہ اللہ کا حکم ہے کہ اس کی زمین پر قدم رکھیں تو اس کی فکر کریں کہ جو کام ہم کر رہے ہیں اس کے آنے والی نسلوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گےوزیراعظم نے کہاکہ بدقسمتی سے دنیا کے اکثر ممالک نے اس جانب توجہ نہیں دی، پاکستان بھی ان ممالک میں شامل تھا تاہم کچھ ممالک نے اس کا احساس کیا اور انہوں نے ماحولیات کا خیال رکھاوزیراعظم نے کہاکہ ہم نے خیبر پختونخوا میں ایک ارب درخت لگانے کا فیصلہ کیا تب ہمیں معلوم ہوا کہ پاکستان کی ساری تاریخ میں اب تک 64کروڑ درخت لگائے گئے ہم نے خیبر پختونخوا میں یہ ہدف پورا کیا انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے یہ تکلیف دہ امر تھا کہ پاکستان میں چھانگا مانگا ، دیپالپور، تاندلیانوالہ اور چیچہ وطنی میں جو جنگلات تھے وہ بھی کاٹ دیئے گئے، کسی کو ہماری آنے والی نسلوں کا خیال نہیں تھا، ہم نے اپنے دریائوں کو بے دردی سے آلودہ کیا ، ماضی میں زمان پارک کے باہر نہر سے لوگ پانی پیتے تھے باغوں کے شہر لاہور میں آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ،ایکو سسٹم کی بحالی کا عشرہ دنیا کے لئے ایک موقع ہے کہ وہ ماحولیات کی بہتری کے لئے اقدامات کریں، اللہ نے ہمیں موقع دیا ہے کہ اپنا ماحول ٹھیک کریں ، یہ 10سال ہمارے لئے اپنی سمت درست کرنے کے لئے اہم ہیں وزیراعظم نے کہاکہ کاربن اخراج میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار ایک فیصد بھی نہیں اس کے باوجود ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ عالمی حدت سے نمٹنے کے لئے اقدامات اٹھائیں گے وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بہت اہم بات کی ہے کہ دنیا میں پانی کا بحران آنے والا ہے، پاکستان میں ابھی سے صوبوں میں پانی کی تقسیم پر اختلافات پیدا ہو چکے ہیں ،پاکستان کے دریائوں میں 80فیصد پانی گلیشیئر سے آتا ہے اور یہ عالمی حدت سے متاثر ہو رہے ہیںجن ممالک کا پانی کا انحصار گلیشیئر پر ہے ان کیلئے بڑے مسائل ہیں انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں اہم ذمہ داری نبھاتے ہوئے اپنے طالبعلموں کو اس حوالے سے آگاہی دیں کہ درخت لگائیں اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو اس کے معاشی اثرات بھی مرتب ہوں گے ، ماحولیات وپانی کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی موسم میں غیر یقینی تبدیلیاں ختم ہوں گی ، آکسیجن کی سپلائی بہتر ہوگی ، آلودگی میں کمی ہوگی ، برڈ اور وائلڈ لائف کو تحفظ ملے گا ، حکومت اکیلی یہ جنگ نہیں جیت سکتی بلکہ اس کے لئے پوری قوم کو ساتھ دینا ہوگا وزیراعظم نے کہا کہ ریچارج پاکستان ایک اہم قدم ہے اس سے سیلابی پانی کو وٹ لینڈ کی طرف موڑ کر اس سے جھیلیں بنا کر بنجر زمینوں کو ریچارج کر سکتے ہیں ،پاکستان میں بہت بڑی ساحلی پٹی ہے جہاں مینگروز لگائے جارہے ہیں ، ان درختوں میں یہ خاصیت ہے کہ کاربن جذب کرتے ہیں ، دنیا میں یہ درخت کم جبکہ پاکستان میں زیادہ ہو رہے ہیں وزیراعظم نے کہاکہ امیر ممالک کا کاربن اخراج میں نمایاں کردار ہے ،یہ بڑے ممالک کاربن کا اخراج کم کریں، ان کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحولیات کے منصوبوں کے لئے فنڈ فراہم کریں تاکہ پاکستان جیسے ممالک اپنے ماحول کو بہتر کر سکیں وزیراعظم نے کہا ہم نے فیصلہ کیا کہ 2030تک بجلی کا ساٹھ فیصد قابل تجدید توانائی پر منتقل کریں گے ،20فیصد گاڑیاں بجلی سے چلیں گی، اس کے لئے ہمارے نوجوانوں نےاسکوٹر اور رکشے بنا لئے اس سے آلودگی میں کمی آئے گی انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے ایک سال میں لاہور میں موجود اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا ہے ، اس پر انہیں مبارک باد پیش کرتے ہیں،اب اس ملک میں درخت لگانے ، دریائوں کو صاف کرنے اور ملک کی صفائی کی ضرورت ہے ، اقوام متحدہ کے عشرہ برائے بحالی ایکو سسٹم کے لئے پوری قوم ملکر آگے بڑھے اور اس کے لئے جدوجہد کرے دوسری جانب چین کے صدر شی جن پنگ نے عالمی یوم ماحولیات 2021 کی کامیاب میزبانی کرنے پر پاکستان کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ماحولیات کے شعبہ کی ترقی کے لئے مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، پاکستان میں چین کے سفیر نے صدر شی جن پنگ کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیاکہ عالمی برادری کوذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان میں صاف و سرسبز تحریک کی تعریف کی، ماحولیات کے شعبہ کی ترقی کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
پاکستان کا80فیصد پانی گلیشیئرسے آتا ہے جو گلوبل وارمنگ سے متاثر ہورہے ہیں،وزیراعظم

ٹیگز:
پاکستان کا80فیصد پانی
