کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی)کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے جعفر ایکسپریس حملے کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں کسی بھی قسم کے فوجی آپریشن سے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوں گے، بلکہ حالات مزید خراب ہوں گے۔وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ بلوچستان میں واقعی امن چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے تمام لاپتہ افراد کو رہا کرنا ہوگا، اس کے بعد ہی کوئی بامعنی بات چیت ممکن ہو سکتی ہیانہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام طویل عرصے سے ظلم و ستم کا سامنا کر رہے ہیں اور حالیہ حملے ان کے غصے اور مایوسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ساجد ترین کا مزید کہنا تھا کہ امن و امان کی بحالی کے لیے ایف سی اور دیگر اداروں کو اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آتاانہوں نے ریاستی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان اب بہت آگے جا چکے ہیں اور اگر ریاست اب بھی یہ سمجھتی ہے کہ وہ طاقت کے ذریعے حالات کو کنٹرول کر سکتی ہے تو یہ ان کی بہت بڑی غلط فہمی ہوگی۔
بلوچستان کے نوجوان اب بہت آگے جا چکے ہیں،ساجد ترین ایڈووکیٹ

ٹیگز:
ساجد ترین ایڈووکیٹ
