اسلا آباد (ڈیلی گرین گوادر)سابق وزیر اعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے لیے 100 قراردادیں بھی پاس کرلی جائیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت عوامی نمائندہ نہیں اور اے پی سی بلا کر بھی کچھ نہیں کر سکتی، اصل مسئلہ یہ ہے کہ بلوچ نوجوانوں نے ہتھیار کیوں اٹھائے؟ ان کی بات سننی چاہیے اور انہیں روزگار دینا چاہیے۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاست نفرت میں بدل چکی ہے، یہاں حکومت اور اپوزیشن اپنا کام نہیں کر رہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی اگر تحریک چلانا چاہتی ہے تو چلا لے، مگر وہ کسی تحریک کے حق میں نہیں ہیں۔فیصل کریم کنڈی نے بھی پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں قومی سلامتی کے اجلاس میں وزیر اعظم شریک ہی نہیں ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کبھی 9 مئی جیسے واقعات کرتی ہے اور کبھی آئی ایم ایف کو خط لکھتی ہے، جس سے ملک کے مسائل مزید بڑھ رہے ہیں۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ بندوق سے نہیں بلکہ قومی اتفاق سے ہونا چاہیے، جبکہ پی ٹی آئی کا رویہ غیر جمہوری اور غیر پارلیمانی ہے، انہیں ایک ذمہ دار اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہیے۔
100 قراردادیں بھی پاس کرلیں،بلوچستان کے حالات نہیں بدلیں گے،شاہد خاقان عباسی

ٹیگز:
شاہد خاقان عباسی
