مردان: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہے کہ جمہوری استحکام کے لیے سیاسی جماعتوں کو اپنے اندر جمہوریت لاناہوگی۔ سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے ملک میں ادارے مستحکم نہیں ہوسکے۔ نظام ٹھیک ہوگیا تو افراد کی کمزوریاں کور ہو جاتی ہیں۔ پاکستان میں نہ تو نظام درست ہو سکا اور نہ ہی حکمران طبقہ نے اپنی روش بدلی۔ امید ہےوزیراعظم کشمیر سے متعلق اپنے بیان پر یوٹرن نہیں لیں گے۔ کشمیریوں کی قربانیوں کا سودا کر کے اگر بھارت سے تعلقات قائم کیے گئے تو کروڑوں پاکستانی حکمرانوں کا محاسبہ کریں گے۔ کے پی اسمبلی کے سامنے اساتذہ پر پولیس تشدد کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔قوم کے معماروں پر ظلم کی بجائے ان کے مطالبات فوری منظور کیے جائیں۔ آزاد اور ذمہ دار میڈیا پاکستان کے لیے ناگزیر ہے۔ صحافیوں کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پاکستان میں کرونا کے مریضوں میں کمی کی خبریں خوش آئند ہیں۔ حکومت ہیلتھ سیکٹر کی بہتری پر توجہ دے۔ تحصیل اور اضلاع کی سطح پر ماڈرن ہسپتال تعمیر کیے جائیں۔ جماعت اسلامی کو عوام نے موقع دیا تو تعلیم وصحت کے شعبے میں جدیدیت لائیں گے۔ قوم کو متحد ہو کر ظلم اور ناانصافیوں سے لڑنا ہوگا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے مردان میں معروف عالم دین مولانا سلطان محمد کی نماز جنازہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی خیبرپی کے سینیٹر مشتاق احمد خان، ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی و دیگر قائدین بھی موجود تھے۔نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ سراج الحق نے مولانا سلطان محمد کی دین اور تحریک اسلامی کی سربلندی کے لیے خدمات اور کاوشوں کی تحسین اور مرحوم کے لیے جنت میں اعلیٰ درجات کی دعا کی۔ سراج الحق نے کہاکہ پی ٹی آئی کی حکومت ہر طرح سے ناکام ہوچکی ہے۔ وزیراعظم کے یوٹرنز کی وجہ سے عوام اب ان پر مزید اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ حکومت نے نہ صرف کشمیر کے مسئلہ پر عوام کو مایوس کیا بلکہ فلسطین کے معاملہ پر بھی نرم موقف اپنایا۔ انہوں نے کہاکہ تین برس میں پی ٹی آئی کی حکومت لوگوں کو کسی بھی قسم کا ریلیف نہیں دے سکی۔ مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی کے مسائل جوں کے توں ہیں۔انہوں نے کہاکہ تینوں بڑی پارٹیاں عوامی اعتماد کھو چکی ہیں۔ آئندہ الیکشن میں یہ لوگوں کو مزیدبے وقوف بنانے کی کوشش نہیں کر سکیں گی۔امیر جماعت کا کہنا تھاکہ ملک میں نظام کی تبدیلی کے لیے نوجوانوں کو آگے بڑھنا ہوگا۔ پڑھے لکھے اور باشعور عوام جب تک متحد ہو کر ظالمانہ نظام، جاگیرداروں، کرپٹ سرمایہ داروں کے خلاف جدوجہد نہیں کریں گے، پاکستان میں ترقی نہیں آئے گی۔ سراج الحق نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ فلسطینی مسلمانوں کی مدد کے لیے شروع کی گئی جماعت اسلامی کی”جھولی پھیلاؤ مہم“میں بھر پور حصہ ڈالیں۔ غزہ میں ادویات، خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی بے حد ضرورت ہے۔ پاکستانیوں کو اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر اس مہم میں حصہ لینا چاہیے۔انہوں نے لوگوں کو تلقین کی کہ وہ دنیا میں دل لگانے کی بجائے آخرت کو یاد رکھیں۔ یہ جگہ ناپائیدار ہے ہر کسی کو یہاں سے چلے جاناہے۔ صدقات و خیرات اور صلہ رحمی مومن کا شعار ہوناچاہیے۔ مسلمانوں کو متحد ہو کر اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے اور اپنے کاروباری معاملات اور روز مرہ زندگی میں قرآن وسنت کے اصولوں کو اپنانا چاہیے۔
صحافیوں کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں، سراج الحق

ٹیگز:
صحافیوں کی جدوجہد
