انسانی حقوق کی وکیل اور سماجی کارکن جلیلہ حیدر نے بدھ کو سویڈن میں قائم رائٹ لائیولی ہُڈ فاؤنڈیشن کا معروف ’رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ‘ حاصل کر لیا، جسے عام طور پر نوبیل انعام کا متبادل بھی کہا جاتا ہے۔
رائٹ لائیولی ہُڈ فاؤنڈیشن کے مطابق جلیلہ حیدر کو یہ اعزاز ’رکاوٹیں توڑنے اور اپنی ہزارہ برادری کی پہلی خاتون وکیل کی حیثیت سے نسلی، ریاستی اور پدرشاہانہ جبر کو چیلنج کرنے‘ پر دیا گیا۔فاؤنڈیشن کے مطابق جلیلہ حیدر کی جدوجہد اس یقین سے رہنمائی حاصل کرتی ہے کہ ’کوئی بھی انسان غیر قانونی نہیں‘۔
فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ کے مطابق جلیلہ حیدر نے 2018 میں ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف 7 روزہ بھوک ہڑتال کی قیادت کی تھی۔
فاؤنڈیشن نے کہا کہ جلیلہ حیدر نے قانونی جدوجہد کو سڑکوں پر احتجاج اور کمیونٹی کو بااختیار بنانے کی کوششوں کے ساتھ جوڑا، جس کے نتیجے میں ان افراد کے لیے انصاف کے حصول میں مدد ملی۔رائٹ لائیولی ہُڈ فاؤنڈیشن کے مطابق جلیلہ حیدر کی قانونی فرم نے 600 سے زائد سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کی نقل و حرکت کی آزادی بحال کرانے میں بھی مدد کی۔
جلیلہ حیدر خواتین کی تنظیم ’ویمنز ڈیموکریٹک فرنٹ‘ کی بانی اراکین میں بھی شامل ہیں، فاؤنڈیشن کے مطابق انہوں نے بلوچستان میں پہلے ’ویمنز مارچ‘ کے انعقاد میں بھی اہم کردار ادا کیا، جو ایک عوامی تحریک کے طور پر سامنے آیا اور اس کے نتیجے میں اس انتہائی پدرشاہانہ خطے میں حقوقِ نسواں اور فیمینزم سے متعلق بحث کو فروغ ملا۔
فاؤنڈیشن کے مطابق جلیلہ حیدر اپنی تنظیم ’وی دی ہیومنز‘ کے ذریعے دہشتگردی کے واقعات میں جاں بحق افراد کی 400 سے زائد بیواؤں کو مالی طور پر خودمختار بنانے میں بھی مدد کر چکی ہیں۔رائٹ لائیولی ہُڈ فاؤنڈیشن نے کہا کہ حراست، سائبر ہراسانی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے باوجود جلیلہ حیدر اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکے جہاں، ان کے الفاظ میں، کوئی بھی انسان غیر قانونی نہ ہو۔

