کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاکہ بلوچستان لاوارث قتل وغارت گری کا بازارگرم ہے پہلے رات کو راستے بندہوتے تھے ا ب دن کو بھی آمدورفت ناممکن ہے اغواء برائے تاوان منافع بخش کاروبار بن گیاہے صوبائی حکومت گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس تک محدو د ہوگئی ہے ذمہ داری نہ مرکزی حکومت لیتی ہے نہ صوبائی حکومت اپنے آپ کو ان مسائل کے ذمہ دار ٹھراتے ہیں۔ایک طرف بدامنی کی آگ میں پوراصوبہ جل رہا ہے تودوسری طرف بدعنوانی اور خراب طرز حکمرانی کی وجہ سے بلوچستان کے عوام تکلیف میں ہے۔ بے روزگار ی عروج پر ہے بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے۔77سال کے باوجود بلوچستان کے وسائل یہاں کے عوام پر خرچ نہ ہوسکے۔بڑی تعدادمیں نوجوان بے روزگار ہیں بے روزگار نوجوان خفیہ تنظیموں کیلئے بہترین رامیٹریل بن سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے ژوب میں مدرسہ ریاض العلوم کی دستاربندی،ختم بخاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب سے نائب امیر صوبہ حافظ نورعلی،مہتمم مدرسہ مولانا امان اللہ مندوخیل،مولانا عبدالحمیدمنصوری،امیر ضلع ژوب فہدخان نے بھی خطاب کیا تقریب میں سراج الحق نے کہاکہ پنجاب کے مزدوروں کا قتل افسوس ناک واقعہ ہے عوام حیران ہیں کہ صوبائی حکومت تعزیاتی،مذمتی بیانات کے علاوہ کچھ نہیں کر رہی نہ قومی اسمبلی اورنہ ہی سینٹ میں بلوچستان میں قتل وغارت گری اورٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے کوئی کہنے سننے والا کوئی ہے بلوچستان میں لاشوں کا کاروبار عروج پر جاری تجارت بند ہے۔بدقسمتی،سیکورٹی اداروں وحکومت کی ناکامی نااہلی کی وجہ سے بلوچستان میں ایک کلو آٹامہنگا اور عوام کا خون سستا ہواہے آٹھ سالہ مصورکاکڑسودنوں سے لاپتہ،عوام نے بہت احتجاج کیا حکومت نے دس دنوں میں برآمد کرنے کے وعدے تو کیے مگر وعدوں کے باوجودبازیاب نہیں کیا حکومت عوام کے مسائل حل،امن دیں یا گھر چلے جائیں حکمران طبقہ مراعات لینے مراعات میں اضافہ کرنے میں تو فعال وسرگرم ہیں مگر مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام ہیں جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل میں بھر پورکردارادا کریگی۔
حکومت کی ناکامی نااہلی کی وجہ سے بلوچستان میں ایک کلو آٹامہنگا اور عوام کا خون سستا ہواہے،سراج الحق

ٹیگز:
سراج الحق
