کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی (پی اے سی)کا اجلاس کمیٹی روم میں منعقد ہوا، جس کی صدارت اصغر علی ترین نے کی۔ اجلاس میں مالی سال 2022-23 کے محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن کے آڈٹ پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، اکانٹنٹ جنرل بلوچستان نصراللہ جان، ڈی جی آڈٹ شجاع علی، سیکرٹری ایکسائز و ٹیکسیشن سید ظفر علی بخاری، ڈی جی ایکسائز زیشان رضا سمیت دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔کمیٹی نے مالی سال 2021-22 کے غیر ترقیاتی بجٹ کا جائزہ لیا، جس میں 1,221.526 ملین روپے مختص کیے گئے، تاہم 1,045.634 ملین روپے خرچ کیے گئے، جبکہ 175.893 ملین روپے بچ گئے۔ کمیٹی نے اس بجٹ کو غیر موثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ فنڈز کے غیرموثر استعمال سے مالی خسارہ بڑھ سکتا ہے۔ اراکین نے فنانس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن کو اضافی بجٹ دینے پر بھی اعتراض اٹھایا، جسے قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔اجلاس میں کمیٹی نے غیر منقولہ جائیداد ٹیکس، موٹر وہیکل ٹیکس، صوبائی ایکسائز اور پروفیشنل ٹیکس کے محصولات کی عدم وصولی پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ رپورٹ کے مطابق محصولات کی عدم وصولی کے باعث حکومت کو 580.996 ملین روپے کا نقصان ہوا۔ چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ اہداف پورے نہ کرنا محکمہ کی بڑی ناکامی ہے، اور اس پر سخت کارروائی ہونی چاہیے۔محکمہ کو جون اور دسمبر 2022 میں محصولات کی کمی سے آگاہ کیا گیا تھا، تاہم اس پر کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ 26 دسمبر 2022 کو ڈی اے سی اجلاس میں محکمہ نے محصولات کے اہداف سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ فنانس ڈیپارٹمنٹ نے محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن سے مشاورت کے بغیر اہداف مقرر کیے تھے۔ اس پر کمیٹی کے ممبران نے وضاحت دی کہ بجٹ سے قبل ہر محکمہ کے نمائندے اجلاس میں شامل ہوتے ہیں اور اہداف باہمی مشاورت سے طے کیے جاتے ہیں، لہذا اہداف سے انکار بلاجواز ہے۔کمیٹی نے ہدایت دی کہ مستقبل میں اہداف محکمہ کے سیکرٹری کی موجودگی میں طے کیے جائیں تاکہ محصولات کی بروقت وصولی کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں کمیٹی نے 94.726 ملین روپے کے بقایا پراپرٹی ٹیکس، کنٹونمنٹ بورڈ کے محصولات میں حصہ، اور رکشوں کے روڈ ٹیکس کی عدم وصولی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔کنٹونمنٹ بورڈ نے صدارتی حکم نامہ 13، 1979 کے تحت صوبائی حکومت کو 15% پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی نہیں کی۔گھریلو و تجارتی جائیدادوں سے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی میں ناکامی سامنے آئی۔رکشوں کے روڈ ٹیکس کی موثر وصولی کا نظام نہ ہونے کے باعث نادہندہ افراد کی نشاندہی میں مشکلات پیش آئیں۔محکمہ کو جون اور دسمبر 2022 میں بار بار یاددہانی کرانے کے باوجود کوئی وصولی نہیں کی گئی۔ چئیرمین کمیٹی نے فوری وصولی کی ہدایت دیتے ہوئے آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کو پیش رفت سے آگاہ کرنے کا کہا۔کمیٹی نے مختلف آڈٹ اعتراضات پر عدم عملدرآمد پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حل شدہ مسائل دوبارہ پی اے سی اجلاس میں زیر بحث نہیں آنے چاہئیں۔ تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی گئی کہ وہ آڈٹ اعتراضات پر فوری کارروائی کریں اور پیش رفت رپورٹ فراہم کریں۔پبلک اکانٹس کمیٹی نے لوکل گورنمنٹ، ایکسائز اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ وہ بقایا جات کی وصولی کے لیے فوری اجلاس منعقد کریں اور اس حوالے سے پیش رفت رپورٹ کمیٹی کو فراہم کریں۔
محصولات کی عدم وصولی کے باعث حکومت کو 580.996ملین روپے کا نقصان ہوا ہے، اصغر علی ترین

ٹیگز:
اصغر علی ترین
