لورالائی (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے چیئر مین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ لورالائی میں جرگے کا مقصد کسی کو برا بھلا کہنا نہیں بلکے پشتون علاقوں میں بدامنی لوٹ مار قتل و غارت گری، ڈاکہ زنی کے خلاف آواز بلند کرنا ہے، کسی کی حق تلفی اور ناجائز کسی کی جائیداد قبضہ ہماری روایات میں نہیں اور نہ اپنے حقوق دوسروں کے دینے کی روایت ہے مقامی افراد کو اپنے علاقے کے قدرتی ذخائر میں محنت مزدوری کرتے نہیں دی جار ہی ہے کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں دہشتگردی کے واقعات کے بعد محض رسمی بیانات دئیے جاتے ہیں موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے پختونوں کے پاس سوائے اپنے اتحاد کو مضبوط کرنے اور جرگے منعقد کرکے اپنا لائحہ عمل بنانے کے کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔یہ بات انہوں نے ہفتہ کو لورالائی میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام لورالائی ڈویژن کی سطح پر دو روزہ قومی جرگہ کے پہلے دن کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔جرگے کی صدارت پشتون اولس قومی جرگہ کے کنوینر نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے کی جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری عبدالرحیم زیارتوال نے سر انجام دئیے۔چیئرمین محمود خان اچکزئی نے جرگے کے اغراض و مقاصد بتاتے ہوئے کہا کہ اس جرگے کا مقصد کسی کو برا بھلا کہنا نہیں بلکے پشتون علاقوں میں بدامنی لوٹ مار قتل و غارت گری، ڈاکہ زنی کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس کے پیچھے مقاصد پنہا ہیں تاکہ پشتون علاقو کے قدرتی وسائل پر قبضہ کیا جا سکے اور مقامی افراد کو اپنے علاقے کے قدرتی ذخائر میں محنت مزدوری کرتے نہیں دی جائے جس کی واضح مثال دکی کے کوئلہ کانوں میں غریب بے گناہ مزدوروں کا قتل، راڑہ شم میں بسوں سے بے گناہ لوگوں کو اتار کر قتل کرنا اسی طرح موسی خیل، میخیتر، چملانگ اور دیگر علاقوں میں اس طرح انسانیت سوز واقعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات خیبر پشتونخوا میں کرائے گئے اور وہاں ہزاروں لوگوں کو گھروں سے نکالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پشتون علاقوں کو ایسے واقعات سے محفوظ کرنے کیلئے ہم اکیلے کوئی فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ ایسے جرگوں کے توسط سے علاقے کے قبائلی عمائدین، تجربہ کارمشران، علماء، دانشوروں اور دیگر سے رائے اور تجاویز لیکر ان کی روشنی میں ایسے فیصلے کرنے ہیں جنہیں عملی جامہ پہنا کر اپنے علاقے کو محفوظ بنانا اپنے وسائل پر اپنا واک اختیار حاصل کرنا اور اپنے قدرتی وسائل کو اپنے مفاد میں استعمال کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان عناصر کو قبضہ کرنے کیلئے مختلف حیلوں بہانوں سے زمینوں کی الاٹمنٹ ایسے لوگوں کو کی جا رہی جس کا علاقہ سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ انہوں نے کہا پشتون بحیثیت قوم دہشتگرو نہیں رہی ہے پشتونوں کی اپنی روایات موجود ہیں۔ یہاں کسی مسافر کو بلا تفریق کھانے اور رہنے کی سہولت موجود ہے۔ کسی کی حق تلفی اور ناجائز کسی کی جائیداد قبضہ ہماری روایات میں نہیں اور نہ اپنے حقوق دوسروں کے دینے کی روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بین الاقوامی قوانیں، قرآن و سنت کی روشنی میں اور پاکستان کے آئین کی ہے رو سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں یہ حقوق کسطرح حاصل کئے جاسکتے ہیں کیونکہ یہ حقوق پاکستان کی پارلیمنٹ کے ذرائے حاصل ہونے والے نہیں کیونکہ پاکستانی میں سچے بولنے اور اپنے حقوق مانگنے پر پابندی ہے۔ ہم بحیثیت مسلمان سچ کہنے کی تلقین کرتے ہیں جبکہ فارم 47 کے حکمران سچ پر پابندی لگا رہے ہیں اور جھوٹ موٹ سے گزارہ کرنے کا کہا جاتا ہے۔ اس جرگہ میں آپ تمام عمائدین کی آراء اور تجاویر کو غور سے سنا جائیگا۔ اور یہ جرگے دیگر ڈویژنز میں بھی منعقد کئے جائیں گے ان تجاویز کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائیگاتاکہ اپنے وطن اور علاقے کو ان ناپاک اور انسانیت سوز واقعات سے محفوظ رکھا جا سکے اور آس پاس کے ہمسائیہ ممالک اور ملک میں موجود استحصالی عناصر کے ہاتھ کو روکا جا سکے کیونکہ حالات ایسے بن گئے ہیں کہ کسی کی جان مال اور کاروبار محفوظ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں قانون نامور کرنے والے ادارے موجود ہیں اس کے باوجود وہ لوگوں کو امن نہیں دے سکتے کیونکہ ایسے ادارے ہیں جو گدلے پانی میں سوئی تلاش کرسکتے ہیں لیکن ہم پھر بھی امن کیلئے ترس رہے ہیں یہ ایک سوالیہ نشان ہے کہ کیونکہ شہریوں کو امن اور تحقط دنیا ریاست کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہی ادارے پاکستان کے آئین کی پامالی کر رہیں ہیں ہمارے ساتھ پاکستان کے آئین کے مطابق فیصلہ ہونا چاہیے۔ آئین میں فوج کسی سرکاری ادارے کی سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں لیکن یہاں عوامی و سیاسی اور اولسی جرگے منعقد کررہے ہیں۔ ایک منصوبے کے تحت ایسے عوامل کو دوام دیا جار ہا ہے۔ ان کی روک تھام ہمارے اتحاد اور اتفاق سے کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ بے بس‘ ریاست اور اس کے ادارے عوام کے سامنے جواب دہی کے لیے تیار نہیں ہیں کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر درجنوں معصوم شہری دہشتگردی کا نشانہ بنے ان واقعات کے باوجود سیکورٹی ادارے اور حکومت رسمی مذمتی بیانات جاری کرکے اپنے اپ کو بری الزمہ سمجھتے ہیں ملک بھر میں روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں، جس میں بے گناہ شہریوں خصوصاً پختونوں کا خون بہایا جا رہا ہے ہر دہشت گردی کے واقعے کے بعد الٹا عوام کو مزید سختیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، سیکورٹی کے نام پر ان کی سیاسی اور شہری ا?زادیوں پر قدغن لگائی جاتی ہیں موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے پختونوں کے پاس سوائے اپنے اتحاد کو مضبوط کرنے اور جرگے منعقد کرکے اپنا لائحہ عمل بنانے کے کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئلے کی کانوں میں ایف سی اور دیگر سیکورٹی اداروں کی ناک کے نیچے روزانہ کی بنیاد پر مزدوروں کا قتل عام ہو رہا ہے ٹرکوں کو جلایا جا رہا ہے، اور بھتہ طلب کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ژوب اور کوئٹہ ڈویژن کے سطح پر بھی عوامی امن جرگوں کے انعقاد کیا جائے گا۔جرگہ کے پہلے روز مختلف علاقوں سے آئے ہوئے اور لورالائی کے قبائلی عمایدین نے تقاریر کیں اور تجاویز پیش کی ہے جرگہ کا سلسلہ آج بھی جاری رہے گا۔
پارلیمنٹ بے بس،ریاست اور اس کے ادارے عوام کے سامنے جواب دہی کے لیے تیار نہیں،محمود خان اچکزئی

ٹیگز:
محمود خان اچکزئی
