کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کیخلاف مقدمہ کا اندراج، پارٹی کے فنانس سیکرٹری سابق ایم پی اے اختر حسین لانگو اور میر شفیع مینگل کی جھوٹے مقدمے میں گرفتاری، قید خانے میں سہولیات کی عدم فراہمی، سیاسی رہنماؤں کو ذہنی کوفت سے دوچار کرنا کیلئے جرائم پیشہ افراد کے ساتھ قید خانے میں رکھنے کے خلاف 2 نومبر کو بلوچستان میں بھر میں قومی شاہراؤں پر پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی بلوچستان کے عوام بالخصوص ٹرانسپورٹرز سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکمرانوں کے ناروا سلوک، مظالم کے خلاف 2نومبر کے پہیہ جام ہڑتال کو رضا کارانہ طور پر کامیاب بنا کر قوم دوستی وطن دوست کا ثبوت دیں بلوچستان کے عوام، ٹرانسپورٹرز یہ ثابت کریں کہ وہ بلوچستان کے اکابرین کے خلاف انتقامی کارروائیوں، قید و بند کی صعوبتوں، ناروا سلوک کو مزید برداشت نہیں کریں گے اورپیغام دیا جائے کہ فارم 47کے حکمران جو خود بے اختیار ہیں ناروا سلوک، استحصالی پالیسیوں کو دوام دے کا عوام پر ظلم نہیں کر سکتے پارٹی کا قصور یہی ہے کہ جمہوری حق کا استعمال کر کے آئینی ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے اصولوں پر سودا بازی نہیں کی دو سینیٹرز کو پارٹی سے نکال کر تاریخ رقم کی پارٹی کے سامنے اصول، جمہوری اقتدار، بلوچستان کے مفادات زیادہ اہمیت کے حامل ہیں سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں بی این پی واحد سیاسی جماعت ہے جس سے واضح طور پر آئینی ترمیم کو مسترد کیا ترمیم عدلیہ، جمہوری اداروں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگی پہیہ جام ہڑتال کو کامیاب بنایا جائے
عوام، ٹرانسپورٹرز 2نومبر کے پہیہ جام ہڑتال کو کامیاب بنا کر قوم و وطن دوستی کا ثبوت دیں،بی این پی

ٹیگز:
بی این پی
