کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء و رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت قانو ن کی مسلسل خلا ف ورزی کی مرتکب ہورہی ہے بلوچستان اسمبلی کے انضباط کار کے مطابق آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے سے قبل حکومت ارکان اسمبلی سے تجاویز طلب کرنے کی پابند ہے جو اب تک نہیں کیا گیا قوانین کے مطابق ہر تین ماہ میں ترقیاتی بجٹ کی ریلیز اور استعمال پیش کی جاتی ہیں مگر ایسا نہیں کیا جارہا صوبائی حکومت اگر اچھی حکمرانی کرنا چاہتی ہے تو اسے آئین و قوانین پر عملدآمد کرنا چاہیے،یہ بات انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہی، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اسمبلی کی حیثیت اور وقعت کو مسلسل کمزور کرنے کے درپے ہے اور اسکی کوشش رہی ہے کہ قوانین کوبلڈوز کرکے اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق معاملات چلائے جائیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے انضباط کار 1974کے تحت وزیرقانون اور وزیر خزانہ اس بات کی پابند ہیں کہ وہ آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے سے قبل فروری سے اپریل کے مہینوں کے درمیان تین دن تک عمومی بحث کرکے ارکان اسمبلی کی بجٹ پر تجاویز لیں انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کی بھی پابند ہے کہ وہ سہ ماہی بنیاد پر ترقیاتی مزانیہ کے اجراء اور استعمال پر عمومی بحث کو شامل کرے اور تین ماہ میں ہونے والی ریلیز اور استعمال کی رپورٹ ایوان میں پیش کرے لیکن موجودہ حکومت کی جانب سے ایسا کچھ نہیں کیا جارہا حکومت کا طرز عمل اسکے گڈ گوننس کے دعووں کی نفی کرتے ہیں اگر حکومت صوبے میں اچھی حکمرانی چاہتی ہے تو وہ آئین و قانون پر عملدآمد کو یقینی بنائے انہوں نے کہا کہ حکومت نے اسمبلی کو بے توقیر کرنے کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے حکومت کا طرز عمل کسی بھی صورت جمہوری نہیں ہے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے تمام حلقوں میں ترقیاتی کام رکوا دئیے گئے ہیں حکومت اپوزیشن کو بد ترین انتقامی کاروائی کا نشانہ بنا رہی ہے جس سے بلوچستان اور یہاں کی عوام کا نقصان ہورہا ہے مگر حکومت کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے یہی روش جاری رہی تو صوبہ آنے والے وقت میں مزید پسماندگی کا شکار ہوگا حکومت فوری طور پر اپنا رویہ تبدیل کرکے صوبے کی یکسر ترقی پر توجہ مرکوز کرے
حکومت اپوزیشن کو بد ترین انتقامی کاروائی کا نشانہ بنا رہی ہے، ثناء بلوچ

ٹیگز:
ثناء بلوچ
