کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پاکستان ریلوے کو بلوچستان میں دو ہفتے قبل ہونے والے شدت پسندی کے دوران تباہ ہونے والے ریلوے کے پل کی وجہ سے روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے جبکہ صوبے میں دوبارہ ٹرینیں چلنے کا فیصلہ حکام کے مطابق سکیورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد کیا جائے گا۔پاکستان ریلویز کے ترجمان بابر رضا کے مطابق بولان کے علاقے دوزان میں پل تباہ ہونے کے بعد سے اب تک پاکستان ریلویز کو 12 کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صوبہ بلوچستان کے ضلع بولان سے دو سافر ٹرینیں بولان میل اور جعفر ایکسپریس گزرتی ہیں جبکہ مال گاڑیا ں بھی جاتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ’شدت پسندی کے واقع میں متاثر ہونے والا پل اور ریلوے ٹریک دو ہفتوں میں کلیئر ہو جائیں گے لیکن ٹرین اس علاقے میں کلیئرنس ملنے کی صورت میں ہی چلائی جا سکے گی۔بابر رضا نے بتایا کہ ضلع بولان جانے والی دونوں ٹرینوں میں مجموعی طور پر تقریباً 2000 مسافروں کی گنجائش ہے، جس سے ہر ٹرین پاکستان ریلویز کو روزانہ کم از کم ایک کروڑ روپے کما کر دیتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹریک کی بحالی کا کام شروع ہو چکا ہے جو دو ہفتوں میں مکمل ہو جائے گا لیکن ٹرین آپریشن تب ہی شروع ہو گا جب وہاں سکیورٹی کلیئرنس ملے گی۔
بلوچستان میں سیکورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کرینگے،ترجمان ریلویز

ٹیگز:
ترجمان ریلویز
