کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کے مرکزی دفتر سے جاری،ایک بیان میں پرائیویٹائزیشن اور کنٹریکٹ پالیسی کو اداروں کا معاشی قتل قرار دے کر ہدف تنقید بنایا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ اس قسم کی پالیسیاں پیپلزپارٹی پارٹی کے اپنے منشور سے انحراف کے مترادف ہیں بیان میں اس امر پر اظہار برہمی کیا گیا کہ حکومت گڈ گورننس اور مثبت معاشی پالیسیوں کے نفاذ کے بجائے ملازمین کے معاشی قتل کے درپے ہے حالانکہ ناقص منصوبہ بندی اور فضول خرچیوں سے سرکاری خزانے سے اربوں روپے سالانہ جھونک دیئے جاتے ہیں مگر حکمرانوں کو یہ اللے تللے نظر نہیں آتے جبکہ کل آبادی کا سات فیصد سے کم سرکاری ملازمین انہیں خزانہ پر بوجھ نظر آتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت بلوچستان سول سیکرٹریٹ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن اور پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن بلوچستان اپنے منظور شدہ اور جائز مطالبات کے حل کیلئے سراہا احتجاج ہیں جبکہ وزیر اعلی بلوچستان نے بیوگا قائدین کو ملاقات کے دوران مطالبات کے جلد حل اور ایسی پالیسی جس سے ملازمین عدم استحکام اور عدم تحفظ کا شکار ہوں نہ لانے کا یقین دلایا تھا۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر ارباب اختیار نے اپنی روش نہ بدلی تو بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کے پلیٹ فارم سے سخت ترین احتجاج کیا جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری حکام پر ہوگی۔
پرائیویٹائز یشن اور کنٹریکٹ پالیسی قطعی طور پر منظور نہیں،اداروں کا معاشی قتل نہیں ہونے دیں گے،بیوگا بلوچستان

ٹیگز:
بیوگا بلوچستان
