کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)سینئر سیاست دان سابق سینیٹرنوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ 2018ء کے بعد 2024ء میں اس صوبہ اورحلقے کے لوگوں کیساتھ ظلم کیاگیا، اس ظلم سے نہ تو وہ مایوس ہیں اور نہ ہی پسپا ہوں گے، نظام درست ہوتا تو 2018ء کے انتخابی عذرداری کا فیصلہ 2019ء میں ہوجاتا۔یہ بات انہوں نے منگل کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 265 پر الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں سینئر قانون دان محمد ریاض احمد ایڈووکیٹ، سینئر قانون دان طاہر حسین ایڈووکیٹ کے ہمراہ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس صوبے اپنے حلقے کے لوگوں اور سیاست کیساتھ پر عزم ہیں پارلیمنٹ پی ایس ڈی پی کے دھندے میں لگ کر پی ایس ڈی پی کے جعلی منصوبوں میں مصروف رہتے ہوئے نظام کو درست نہیں کرتی اگر نظام درست ہوتا تو 2018ء کی انتخابی عذرداری کا فیصلہ 2019ء میں ہوجاتالیکن وہ 2018ء کے کیس میں 2024ء میں بھی پیش ہورہے ہیں اور اس دوران چار چیف جسٹس ریٹائر ہوچکے ہیں تاہم انہیں انصاف نہیں ملا۔انہوں نے کہاکہ جن لوگوں کو پارلیمنٹ میں بھیجا جاتا ہے انہیں پی ایس ڈی پی سے دلچسپی ہے جس کے نتیجے میں آج پورا نظام مفلوج ہوکر رہ گیا ہے، انہوں نے کہاکہ 2018ء کے بعد 2024ء میں اس صوبہ اور ان کے حلقے کے لوگوں کیساتھ ظلم کیا گیا لیکن نہ تو وہ مایوس ہوئے ہیں نہ ہی پسپا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں تک یہ پیغام پہنچانا ہے کہ ہم جس نظام میں رہ رہے ہیں اس میں لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا، چھ سال گزرگئے ہیں اس دوران ہمارا وقت ضائع،فنڈز چوری کرلئے گئے کوشش ہے کہ جن لوگوں نے یہ کیا ان کا تعاقب کرکے انہیں بے نقاب کریں۔ اس موقع پر سینئر قانون دان محمد ریاض احمد ایڈووکیٹ نے عدالتی کاروائی سے متعلق میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ نے منگل کے روز ہونے والی سماعت میں سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کو پیش ہونے کی ہدایت کی تھی جس کیلئے اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کئے گئے تھے اس کے باوجود سابق ڈپٹی اسپیکر عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل نے قاسم سوری کی اسمبلی رکنیت ختم کرکے حلقہ میں دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا جس کے خلاف قاسم سوری نے سپریم کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کیا اور اس دوران وہ ڈپٹی اسپیکر اور رکن قومی اسمبلی رہے اور فنڈز بھی حاصل کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ قاسم سوری پیش ہوکر عدالت کو بتائیں کہ وہ یہ سیٹ کیسے حاصل کرسکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بلوچستان حکومت سے قاسم سوری کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ بتائے قاسم سوری کہاں ہیں۔
2018ء کے بعد 2024ء میں اس صوبہ اورحلقے کے لوگوں کیساتھ ظلم کیاگیا،نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی

