کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بی این پی عوامی کے رکن میراسد ا للہ بلوچ نے کہا کہ امن وامان کیلئے 92ارب روپے رکھے گئے ہیں لیکن عوام 75ہزار،پولیس اور لیویز اہلکاروں سے مطمئن نہیں تھانے ٹھیکے پردیئے جاتے ہیں بے روزگار نوجوانوں کیلئے الاونس،زراعت میں ہونے والے نقصانات کے ازالے کیلئے رقم مختص کی جائے اسکولوں میں گھوسٹ اساتذہ اور گھوسٹ اسکولوں کا خاتمہ کیا جائے بجٹ کو خفیہ رکھنے کی بجائے عوام کی منشاء اور ضروریات کے مطابق بنایا جائے۔صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ وہ بہترین بجٹ بنانے پر وزیراعلیٰ،صوبائی وزراء اور بیورو کریسی کو مبارکباد پیش کرتے ہیں انتہائی قلیل مدت میں صوبے کا پہلا سرپلس بجٹ دینے کا کریڈٹ قائد ایوان میرسرفراز بگٹی کو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں 3976اسکیمات کو139ارب روپے خرچ کرکے آگے بڑھایا جارہا ہے 2704نئی اسکیمات کیلئے 80ارب روپے مختص ہیں چھوٹی اسکیمات کو 100فیصد رقم دیکر مکمل کیا جارہا ہے جولائی سے اسکیمات پر کام شروع ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شعبان میں پکنک منانے والوں کے شناختی کارڈ دیکھ کرانہیں اغواء کیا گیا وہ ہمارے مہمان ہیں اور مہمانوں کی حفاظت کی جاتی ہے نہ کہ انہیں اغواء کیا جاتاہے اب ریاست انکے خلاف کارروائی کریگی تو ریاست مخالف بیانیہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میرے علاقے میں مواصلات کیلئے موبائل فون ٹاور نصب کئے جاتے ہیں تواسے اڑادیا جاتا ہے کیا یہ لوگ بلوچستان کی خیرخواہی کررہے ہیں ٹھیکیدار بھتہ نہ دے تواسکی مشینری جلادیتے ہیں آپ لوگ بلوچستان کے دشمن ہیں شرپسندوں کا سماجی بائیکاٹ کیاجاناچاہئے یہ اپنی موت خود مرجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تعلیم کیلئے سب سے زیادہ رقم مختص کی گئی ہے پہاڑوں پرجانے اور لڑنے والے لوگ آئیں تعلیم حاصل کریں لیکن انہوں نے بھتہ خوری کرنی ہے یہ اس سرزمین کے دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں دعوت دیتا ہوں کہ وہ لوگ پانچ سال حکومت کا ساتھ دیں صحت،تعلیم،بنیادی سہولیات کیلئے ہمارے ساتھ کھڑے ہوں ہم انکے لئے پانچ سال میں عام معافی کا اعلان کرتے ہیں اورانہیں ترقی دیں گے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں فنڈز پر حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے ارکان بھی مطمئن ہیں یہ ہماری سب کو ساتھ لیکر چلنے کی پالیسی کا نتیجہ ہے صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی نے کہا کہ قلیل مدت میں بہترین بجٹ پیش کیا گیا ہے بجٹ میں 12.7فیصد حصہ اسکول ایجوکیشن کی مد میں رکھا گیاہے صوبے میں خواتین کی تعلیم چیلنج ہے اسوقت ہمارا تعلیمی نظام وینٹی لیٹر پر ہے اکیسویں صدی میں بھی تعلیمی نظام ایمرجنسی پر ہے ہمیں بیٹھ کراس نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تھینک ٹینک،ٹیچر ٹریننگ،ہیلپ لائن کے منصوبے تجویز کئے ہیں کوئٹہ میں سرکاری اسکولوں میں بجلی نہیں ہے اسکولوں کیلئے کھلے میدانوں کی ضرورت ہے جن کیلئے پیسے رکھے ہیں اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے ہم نے اسکولوں کی سولرائزیشن کی اسکیم دی ہے و شاید ریفلیکٹ نہیں ہوئی وزیراعلیٰ سے درخواست ہے کہ انہیں شامل کریں۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں 11جامعات اور کیمپس ہیں مگراساتذہ کی تنخواہوں کے پیسے نہیں ہیں ایچ ای سی 2014ء میں بھی 65ارب روپے دے رکھا تھا آج جب جامعات کی تعداد 246ہے تب بھی بجٹ 65ارب روپے ہے اگر ہم چاہتے ہیں کہ جامعہ کے اساتذہ دوبارہ احتجاج نہ کریں تو انکے لئے 10ارب روپے کی ضرورت ہے اس کیلئے بھی انڈومنٹ فنڈ قائم کرنا ہوگا صوبے میں ٹیچر ٹریننگ اور ضرورت پر مبنی اسکالرشپ پروگرام کی ضرورت ہے مدارس کو نظام میں لانے کی ضرورت ہے اسٹریٹ چلڈرن کیلئے بھی منصوبے چاہئے بجٹ میں وومن ڈویلپمنٹ کا نام ہی نہیں ہے صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ بجٹ میں بہت سے منصوبے رکھے گئے ہیں ابھی وہ تقریر کر رہے تھے کہ قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ وزراء کابینہ میں اپنی تجاویز دیں اور مختصر تقریر کریں جس پر وزیراعلیٰ نے بھی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو زیادہ وقت دیا جائے اگر وزراء بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ ایک سے دومنٹ میں بات کرلیں جس پر میرعاصم کرد گیلو نے اپنی تقریر کومختصر کرتے ہوئے دیگرارکان کیلئے اپنا وقت دینے کا اعلان کیا۔جمعیت علماء اسلام کی رکن شاہدہ روف نے کہا کہ بجٹ میں خواتین کیلئے کوئی منصوبہ نہیں کوئٹہ میں ٹینکر مافیا کیلئے تو بے شمار پانی ہے لیکن واسا کیلئے نہیں ہے عام آدمی پر بوجھ ڈال کر حکومت شاہ خرچیاں کرتی ہے بیور و کریٹس کی سرکاری گاڑیاں دفتری اوقات کے بعد سڑکوں پر نہیں ہونی چاہئے ایوان کا کام قانون سازی ہے نہ کہ سڑکیں اورمنصوبے بنانا ہے یہ کام بلدیاتی اداروں کا ہے انہیں مضبوط کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ شعبان سے 10افراد کو شناختی کارڈ دیکھ کر اغواء کیا گیا کیا پنجاب کا شناختی کارڈ رکھنے والے لاوارث ہیں ان پر کسی نے بات نہیں کی انکی بازیابی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ائیر پورٹ پروی آئی پی دروازے اور ایک دروازہ باقاعدہ فوجیوں کی فیملیز کیلئے مختص ہے کیا ارکان اسمبلی یا دیگر لوگوں کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ بھی برابر کے شریک تصور کئے جائیں بعدازاں اسمبلی کا اجلاس آج (جمعرات) کی سہ پہر چار بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
بجٹ کو خفیہ رکھنے کی بجائے عوام کی منشاء کے مطابق بنایا جائے،میر اسد بلوچ

ٹیگز:
میر اسد بلوچ
