کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں سالانہ میزانیہ 2024-25پر عام بحث کا آغاز کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کو سپریم اور عوام کو طاقت کا سرچشمہ سمجھتے ہیں آج ملک معاشی اورسیاسی عدم استحکام کا شکار ہے معاشرے میں تقسیم ہے ادارے اورافراد آپس میں لڑ رہے ہیں تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھ رہا نوجوان ہم سے ناراض ہیں ہمیں روزانہ پیغامات مل رہے ہیں کہ انہیں اس جمہوریت سے کوئی سروکار نہیں یہی رویہ رہا تو بلوچ نوجوان عسکریت پسند تنظیموں،پشتون ٹی ٹی پی،قوم دوست پی ٹی ایم میں چلے جائیں گے کیچی بیگ میں جہاں لوگ 18ہزار ووٹ لیکر الیکشن لڑتے اور جیتتے تھے اس بار 1800ووٹ نہیں پڑے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہی حالات رہے تو وہ سیاسی جماعتیں جو جمہوریت اور عوام کی طاقت پر یقین رکھتی ہیں وہ پارلیمنٹ کا حصہ نہیں رہ پائیں گی۔انہوں نے کہا کہ آپریشن سے استحکام نہیں آئے گابلکہ استحکام محبت اور مذاکرات سے آئے گاافغان انقلاب کے بعد لاکھوں بلوچ اورپشتون شہید ہوئے کیا اس سے امن آگیا ہے جن علاقوں میں شورش ہے وہاں پچھلے دنوں دو تھانوں پر حملہ ہوا اور حملہ آور بندوقیں تک لے گئے مغرب کے بعدپولیس تھانے بند اور بعقول مولانا فضل الرحمن کے پشتون علاقوں میں بندوق بردار افراد کا قبضہ ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ میں 20سال سے مند اور بلیدی نہیں گیا کیونکہ وہاں حکومت کی رٹ نہیں ہے ہمارے علاقوں میں روز آپریشن ہورہے ہیں لیکن ان آپریشنوں سے کچھ نہیں ہوا غربت کا مسئلہ اہم ہے صوبے کے لوگ سطح غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں صوبے کا دوسرا مسئلہ جہالت ہے حکومت کو اس اہم مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے بہت سے مسئلے وفاق سے بھی ہیں سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ ہماری قومی اسمبلی میں نشست کم ہیں 14نشستوں پر کوئی بڑی جماعت ہمیں گھاس نہیں ڈالے گی صوبے کا ایک قومی اسمبلی کا حلقہ دیگر صوبوں کی نسبت سب سے بڑا ہے تمام وفاقی اداروں میں بلوچستان کی نمائندگی نہیں ہے سیندک میں جو بھرتیاں ہورہی ہیں وہ کہاں سے ہورہی ہیں گوادر ائیر پورٹ پر ایک بھی گوادری نہیں ہے وفاق کو چاہئے کہ وہ ان مسائل کو ختم کرے نہ آپریشن کرے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اپنے وسائل بھی ہمیں میسر نہیں 1990تک سوئی گیس ملک کو90فیصد گیس فراہم کررہی تھی اس نسبت سے تو ڈیرہ بگٹی کو ترقی یافتہ ہونا چاہئے تھا لیکن اسوقت سب سے زیادہ غربت ڈیرہ بگٹی میں ہے آج گیس ذخائر صر ف18سے 20فیصد رہ گئے ہیں بلوچستان تو دور کوئٹہ کو بھی گیس میسر نہیں ہم نے سیندک کو خود دیکھا ہے سیندک اور پی پی ایل معاہدوں پر اس لئے دستخط نہیں کئے کیونکہ اس سے صرف دو فیصد صوبے کو مل رہا تھا ہم نے کہا کہ جب تک صوبے کو50فیصدنہیں ملے گا تب تک دستخط نہیں کئے جائیں گے ریکوڈک تو ابھی آیا نہیں جب آئے گا اسے بھی دیکھیں گے گوادر بندرگاہ میں 93فیصدچین،7فیصد وفاق کا حصہ ہے بلوچستان کو کچھ نہیں ملتا اور کوئی مقامی ٹیکس بھی نہیں لگایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو ڈیوزیبل پول سے نہیں چلایا جاسکتاوفاقی حکومت کی پہلے ہی این ایف سی ایوارڈ پر نیت خراب ہے اور وہ آئی ایم ایف کا کہہ کر اس پر نظرثانی کرنا چاہتے ہیں لیکن آئی ایم ایف نے تو یہ کہا ہے کہ حکمران اپنی شاہ خرچیاں بند کریں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو 1700میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے لیکن اوچ پاور پلانٹ،حب کو سمیت دیگر پلانٹ ہونے کے باوجود 700میگاواٹ بجلی ملتی ہے کہا جاتا ہے کہ ہم بل ادا نہیں کرتے زمیندار وں کو صرف دو گھنٹے بجلی مل رہی ہے فصلات اورباغات تباہ ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بجٹ کا 48فیصد حصہ بی ڈی اے،لوکل گورنمنٹ،ایری گیشن،سی اینڈ ڈبلیوسمیت دیگر محکموں کیلئے رکھا گیا ہے صرف سولر،بلیک ٹاپ، بندات،بورنگ پر زوردیا گیا ہے اس پر نظرثانی کی جانی چاہئے کوئٹہ میں 50ارب روپے سڑکوں پر خرچ ہوچکے ہیں سڑکوں پر آج بھی پانی کھڑا ہوتا ہے بلوچستان میں سڑکوں پر جتنا پیسہ خرچ ہوا صوبے میں کوئی کچی سڑک نہیں ہونی چاہئے تھی جتنے بھی پیسے بجٹ میں رکھے گئے ہیں وہ گراونڈ پر خرچ ہونے چاہئے 18ویں ترمیم کے بعد بلدیاتی نظام کو مستحکم کرکے اختیارات دیئے جائیں اسکول،واٹر سپلائی اسکیمات،ڈسپنسری کو بلدیاتی نمائندوں کے حوالے کیا جائے لائیوسٹاک،فشریز،مائنز اینڈ منرلز کو مستحکم کئے بغیر آگے نہیں جایاجاسکتا۔انہوں نے کہا کہ ساوتھ بلوچستان پیکج تو عمران خان دور کا ہے اس میں نہ تو موجودہ صوبائی اور وفاقی حکومت کا کردار ہے اور نہ ہی صوبائی حکومت نے اس مد میں کوئی پیسے رکھے ہیں یہ وفاقی منصوبہ ہے جس کے تین منصوبوں کیلئے پیسے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقوں میں انتقامی کارروائی شروع ہوگئی ہے دو ڈاکٹروں کوبلاجواز معطل کیا گیا ہے اگر انتقامی کارروائی ہو گی تو ہم آزاد ہونگے ظہور بلیدی سینئر سیاستدان ہیں وہ اپنی جوانی کو سنبھالیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی بلڈنگ کو تزئین و آرائش کیا جائے یہ بلوچ اور پشتون ثقافت کی نشانی ہے عمارتوں پرزیادہ زورنہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمیز پر کٹ لگایا گیا ہے اسے بحال کیا جائے۔
آپریشن سے استحکام نہیں آئے گابلکہ استحکام محبت اور مذاکرات سے آئے گا،ڈاکٹر مالک بلوچ

ٹیگز:
ڈاکٹر مالک بلوچ
