کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان کے سابق وزیراعلی اور بلوچستان عوامی پارٹی)باپ(کے سابق صدرپاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے بعد بلوچستان میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت بنے گی بلوچستان عوامی پارٹی 2018 میں اس لیے بنائی گئی تھی کہ صوبے کے مسائل کو وفاق کی سطح پر اجاگر کرتے ہوئے ان کا حل تلاش کریں جس میں کسی حد تک ہم کامیاب بھی رہے)وی نیوز (کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ انہوں نے کہاکہ بلوچستان عوامی پارٹی نے اپنے دور اقتدار میں سرحد سے متعلق مسائل سمیت ریکوڈک منصوبے میں صوبے کو اس کا حق دلایا۔ لیکن میں نے یہ محسوس کیا کہ بلوچستان عوامی پارٹی صوبے کی حد تک محدود ہے ہمیں ایسی جماعت کی ضرورت تھی جو مرکز کی سطح پر مضبوط ہو اور پھر سوچ بچار کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کا انتخاب کیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی مرکز کی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبائی خودمختاری کو یقینی بنایا، اس کے علاوہ این ایف سی ایوارڈ سمیت دیگر اہم کارنامے انجام دیے۔ بلوچستان میں آئندہ حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کی ہوگی اور عوام کے مسائل حل ہوں گے۔ ماضی میں ہم نے دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر صوبے کے سرحدی مسائل کو حل کیا تاکہ عوام کو روزگار مل سکے لیکن نگراں حکومت نے سرحدی تجارت کو بند کردیا، ایسے میں صوبے کے عوام کہاں جائیں گے۔ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے سے قبل عوام کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے چاہییں تھے۔میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ سال 2013 کے انتخابات سے قبل سیکیورٹی حالات اس سے زیادہ کشیدہ تھے لیکن اس کے باوجود الیکشن ہوئے تاہم اب صورتحال اتنی خراب نہیں کہ الیکشن نہ ہوں۔ انتخابات کو بروقت ہونا چاہیے تاکہ جمہوری عمل مکمل ہو۔ اگر انتخابات ملتوی کروائے گئے تو یہ جمہوری عمل کو روکنے کا بہانہ ہوگاایک سوال کے جواب میں میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ دور اقتدار میں کوئی بڑی غلطیاں نہیں کیں۔ دراصل بلوچستان کو سمجھنے کی ضرورت ہے یہاں فاصلے بہت زیادہ ہیں اور آبادی دور دراز پر مقیم ہے۔ دوسری جانب ہمیں این ایف سی ایوارڈ میں 5 فیصد حصہ ملتا ہے ایسے میں آدھے پاکستان کو 5 فیصد کے حصہ سے چلانا ممکن نہیں۔ اس رقم میں صرف صوبے کے چھوٹے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے وفاق کی جماعتوں کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔عبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ این ایف سی ایوارڈ کی مد میں ملنے والی رقم کا بروقت اجرا نہ ہونا ہے، ایسی صورت میں صوبوں کو بے پناہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کے علاوہ بلوچستان آدھا پاکستان ہے اور جو شئیر صوبے کو مل رہا ہے وہ یہاں ترقیاتی کاموں کے لیے ناکافی ہے۔ اگر وفاق اس مسئلے پر نظرِ ثانی کرے تو پھر بلوچستان کی ترقی ممکن ہے۔ایک سوال کے جواب میں میرعبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ ابھی تک سرفراز بگٹی اور میں دونوں الیکشن میں امیدوار ہیں، الیکشن جیتنے کے بعد پارٹی کی مرکزی قیادت فیصلے کرے گی کہ وزیراعلی کا امیدوار کون ہے، اور قیادت کا فیصلہ ہمیں منظور ہوگا۔
بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کیلئے وفاق کی جماعتوں کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا،عبدالقدوس بزنجو

ٹیگز:
عبدالقدوس بزنجو
