مستونگ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی کال پر آج بلوچ یکجہتی کمیٹی مستونگ کے جانب سے ایک پر امن ریلی نکالی، ریلی جسمیں خواتین، بچوں، طلباء ، اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سمیت مستونگ کے عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے بلوچستان میں ریاستی مظالم اور ماورائے آئین و قانون جبری گمشدگیوں کے خلاف ریلی بس اڈہ سے نکالی گئی جو مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے شہید سلطان چوک پر پہنچ کر جلسے کی شکل اختیار کر گیا جہاں بی ایس او پجار کے سابق مرکزی چیرمین زبیر بلوچ نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر حاجی نذیر احمد سرپرہ جماعت اسلامی کے امیر حافظ خالد الرحمن شاہوانی ثمینہ ظفر بلوچ جمیعت علماء اسلام پاکستان کے ضلعی امیر مولانا وحید احمد ربانی میر سکندر خان ملازئی سنگت عبدالرحمن بلال بلوچ وحید بلوچ شاہد بلوچ سراج بلوچ نصیب بلوچ شرجیل بلوچ ودیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی شدید پامالی کی جارہی ہے بلوچ لاپتہ افراد کو ماورائے آئین جعلی مقابلوں میں شہید کیا جارہا ہے بلوچستان کو ایک کالونی بنائی گئی ہے جہاں ہائے روز لوگوں کو جبری لاپتہ کرکے انھیں ٹارچر سیلوں میں انسانیت سوز تشدد اور انھیں جعلی مقابلوں میں شہید کیا جارہا ہے حکومت کی لاپتہ افراد کے مسلہ کو حل کرنے میں سنجیدگی نہیں ہے تربت ٹو اسلام آباد لانگ مارچ کرنے والے ہمارے ماؤں بہنوں کے ساتھ اسلام آباد میں بدترین سلوک کیا جارہا ہے جو ناقابل برداشت عمل ہے شدید سردی میں بلوچ مظاہرین کو خیمہ اور بستر تک لے جانے کیلئے نہیں چھوڑ رہے ہیں شدید سردی میں بزرگ خواتین شدید سردی سے نڈھال ہوتے جارہے ہیں لیکن چند نام نہاد افراد کو اسلام آباد میں خواتین کے جاری احتجاج کیمپ کے سامنے چند کرایہ کے افراد کو شہدا کے لواحقین کے نام پر بٹھا کر بلوچ لواحقین کے جاری دھرنے کو سپوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور پرامن دھرنے کے خواتین و بچوں کو حراساں کرکے مزید حالات کو خراب کرنے چاہتے ہیں۔ اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے وہ رائے عامہ کو گمراہ کرنے میں عمل پیرا ہیں مقررین کا کہنا ہے جہاں ہمارے ماؤں بہنوں کو سردی سے بچنے کیلئے خیمہ لگانے اور بستر اور کھانے پینے کی اشیاء لے جانے پر پابندی عائد کردی ہے لیکن ان پلانٹڈ لوگوں کے لیے تمام تر سہولیات سے لیس وئی آئی پی خیمہ قائم کرکے انھیں سہولیات مہیا کیا گیا ہے یہ سب کچھ ہر ذی شعور افراد جانتے ہے کے یہ کون لوگ ہیں اور انھیں یہاں کیوں بٹھایا گیا ، انھوں نے مطالبہ کہ اسلام آباد پرامن دھرنے کے بلوچ خواتین و بچوں کے ساتھ روا رکھا ناروا سلوک بند کریں اور لاپتہ افراد کو منظرعام پر لایاجائے،اور دھرنے کے شرکاء کے مطالبات کو تسلیم کیاجائے انھوں نے کہاکہ آج ہمارے احتجاج کا تیسرا فیز ہے اور مطالبات کو تسلیم کرنے تک پرامن احتجاج کاسلسلہ جاری رکھیں گے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی کال پر آج مستونگ میں ریلی واحتجاجی مظاہرہ

ٹیگز:
بلوچ یکجہتی کمیٹی
