کوئٹہ(ڈیلی گرین گواد)بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالہ یوسف خلجی نے کہا ہے کہ نگران وفاقی حکومت لاپتہ افرادکے مسئلے کو آئین اورقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے،اسلام آباد میں پرامن احتجاج کرنے والی بلوچستان کی خواتین پرلاٹھی چارج صوبے کی قبائلی روایات کے منافی ہے واقعہ میں ملوث پولیس افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں لالہ یوسف خلجی نے کہاکہ بلوچستان میں لاپتہ افرادکامسئلہ کافی عرصے سے چلا آرہا ہے اور لاپتہ افرادکے اہل خانہ پرامن احتجاج کررہے ہیں لیکن ابتک کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ لاپتہ افرادکے اہل خانہ اور قانون نافذکرنے والے اداروں کی مبینہ فائرنگ سے ہلاک ہونے والے نوجوان کے اہل خانہ واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کیلئے لانگ مارچ کرتے ہوئے اسلا م آبادپہنچے جہاں لانگ مارچ میں شامل خواتین،بچوں اور مردوں نے پرامن دھرنادیالیکن اسلام آباد پولیس نے پرامن دھرنے کے شرکاء اورخواتین پر بہیمانہ لاٹھی چارج اورانہیں گرفتار کرکے چادراورچاردیواری کے تقدس کو پامال کیا۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی قبائلی روایات میں خواتین کو بہت ہی زیادہ عزت اورقدرکی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے اور کوئی بھی باشعور بلوچستانی خواتین پر تشدد کو برداشت نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان امن جرگہ اسلام آبادمیں خواتین پرلاٹھی چارج اورانکی گرفتاریوں کی مذمت کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ نگران وفاقی حکومت لاپتہ افرادکے مسئلے کو حل اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے نوجوان کے واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کرائے اور خواتین پر لاٹھی چارج میں ملوث پولیس افسران کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائے۔
نگران وفاقی حکومت لاپتہ افرادکے مسئلے کو آئین اورقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے،لالہ یوسف

ٹیگز:
لالہ یوسف
