قلعہ سیف اللہ(ڈیلی گرین گوادر)جدوجہد آزادی کے عظیم رہبر خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کے 50 ویں برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے شہیدوں کے سالار کو ان کی لا زوال قومی و وطنی جدوجہد اور قربانیوں پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے نام کا اعلان کیا۔ انہوں نے خان شہید کی عظمت، استقامت، صبر، دور اندیشی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ جن سیاسی مقاصد ، نظریات و افکار کیلئے خان شہید نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیااس راہ پر چلتے ہوئے اپنے قوم و ملت کیلئے آزادی ، خودمختاری اور آبادی کی منزل کے حصول میں ضرور کامیاب ہونگے۔ خان شہید کے سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1927 میں افغانستان کے بادشاہ غازی امان اللہ خان کی چمن ریلوے سٹیشن پر آمد ، عوام کی طرف سے ان کا پرتپاک استقبال اور اس دوران انگریزی استعمار کی بالادستی اور پشتون افغان عوام کے ساتھ غلاموں جیسے سلوک نے خان شہید کی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑے اور یہی سے انہوں نے اپنے قوم وملت کی آزادی کیلئے بھرپور جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگر چہ اس وقت انگریزی استعمار نے گنڈمک معاہدے کے ذریعے آزاد افغانستان پر اپنا تسلط قائم کرنے کیلئے اثر و نفوذ بڑھایا تھا اور ڈیورنڈ لائن کے ذریعے موجودہ خیبر پشتونخوا اور جنوبی پشتونخوا کے علاقوں کو اپنے عمل داری میں شامل کر لئے تھے اس کے باوجود پشتون افغان غیور ملت نے غازی امان اللہ خان کو اپنا بادشاہ مانتے ہوئے ان کا استقبال کیا اور انگریزی تقسیم کو تسلیم نہ کرنے کا عملی مظاہرہ کیا۔ اسی تناظر میں خان شہید نے اپنے سیاسی جدوجہد کے آغاز میں 1931 میں ہندوستان کا دورہ کیا اور گاندھی جی اور کانگریس پارٹی کے دیگر رہنماں کے ساتھ ملاقات کر کے انگریزی استعماریت کے خلاف وطن کی آزادی کیلئے مشترکہ محاذ بنانے جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے بعد خان شہید نے جیکب آباد میں آل بلوچ کانفرنس کی صدارت کی اور اپنے عملی اقدامات سے یہ ثابت کیا کہ وہ ہر قسم کی مذہبی انتہا پسندی، لسانی، قومی اور علاقائی تعصبات سے بالاتر سوچ وفکر رکھنے والیآزادی پسند رہنما ہے۔انگریزوں کی طرف سے 1935 کے ایکٹ کے نفاذ کے بعد خان شہید اور ان کے سیاسی رفقا نے ایک نئے انداز میں سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ انگریزی استعمار نے پسپائی کے بعد ظلم یہ کیا کہ اس نئے مملکت کا اقتدار عوام اور ان کے حقیقی سیاسی قوتوں کی بجائے اپنے ایجنٹوں اور کاسہ لیسوں کے حوالے کی اور اس طرح اس ملک کے عوام کو حقیقی آزادی کی ثمر سے محروم کردیا۔غیر جمہوری قوتوں نے اس ملک کو سالوں سال تک بے آئین رکھا اور پھر مارشل لاں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا اور قوموں کی حق حکمرانی خصوصا بنگال کی اکثریت اور حق حکمرانی سے انکار کر کے ملک کو دولخت کیا گیا۔ قومی اور عوامی حقوق کے حصول کیلئے نیشنل عوامی پارٹی کا قیام ایک اہم پیشرفت تھا اور خان شہید نے ورور پشتون کو اس نئے پارٹی میں ضم کر دیا۔نیشنل عوامی پارٹی نے رضاکارانہ وفاق، قومی برابری،قوموں کی حق حاکمیت اور حق ملکیت، ملک میں حقیقی جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی ودیگر مطالبات پر مبنی بیانیہ پیش کیا جسے عوام کی طرف سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔ آگے چل کر قومی سوال پر اختلافات کے باعث خان شہید اور ان کے سیاسی رفقا نے نیشنل عوامی پارٹی سے راہیں جدا کر کے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کا قیام عمل میں لایا اور اپنی سیاسی جدوجہد کو جاری رکھا۔ اس راہ میں سخت مصائب و مشکلات کا سامنا کیا تمام تکالیف کے باوجود بھی انہوں نے نظریات اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا اور اسی پاداش میں انہیں 2 دسمبر 1973 کو شہید کیا گیا۔خوشحال خان کاکڑ نے چمن پرلت کے مطالبات کی حمایت کا ایک بار پھر اعادہ کیا اور یقین دلایا کہ پشتونخوا نیپ پرلت کمیٹی کے شانہ بشانہ جدوجہد کریگی۔ ملکی سیاسی حالات کے متعلق انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا قیام ملک میں حقیقی جمہوریت کے قیام، فوج اور جاسوسی اداروں کی جانب سے سیاست میں عدم مداخلت، پارلیمنٹ کی بالادستی، آئین وقانون کی بالادستی کیلئے تھی لیکن بدقسمتی سے پی ڈی ایم میں شامل پارٹیوں نے تحریک کا رخ حقیقی مسائل کے حل کی بجائے پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے تک محدود کر دی اور عارضی اقتدار کی لالچ میں اسٹبلشمنٹ سے سمجھوتہ کر کے ملک کے عوام پر مہنگائی، بے روزگاری اور غربت مسلط کر دی۔ پی ڈی ایم نے اس کے علاوہ غیر جمہوری قوتوں کے ساتھ ملکر اپنی تمام تر توانائی پاکستان تحریک انصاف کو توڑنے، ان کے رہنماوں کو جیلوں میں ڈالنے اور ان پر منگھڑت اور غیر قانونی مقدمات بنانے پر مرکوز کر دی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام کی یہ غلط فہمی اب دور ہوگئی ہے کہ نواز شریف ملک میں حقیقی جمہوریت، پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئین وقانون کے علمبردار جمہوری رہنما ہے بلکہ اب نواز شریف ایک دفعہ پھر اقتدار کیلئے غیر جمہوری قوتوں کی ایما پر سیاسی لوٹوں کو پارٹی میں شامل کر رہے ہیں اور سیاسی اقدار کی نفی کر رہے ہیں اور جس کی وجہ سے جمہوریت اور جمہوری اداروں کو سخت نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ پشتون افغان عوام کو درپیش سنگین صورتحال سے نمٹنے کیلئے قومی اتحاد واتفاق اشد ضروری ہے اور ان تمام مسائل کا حل ایک قومی بیانیے اور مشترکہ جدوجہد میں پوشیدہ ہے اسی لئے حالات کا تقاضا یہی ہے کہ پی ٹی ایم اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور مشترکہ اتحاد کا حصہ بن کر اس جدوجہد میں فعال کردار ادا کریں۔افغان کڈوال عوام کے ساتھ تضحیک امیز رویے اور ان کی جبری بے دخلی کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ ریاست پاکستان کو بین الاقوامی انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے قوانین کی پیروی کرتے ہوئے افغان کڈوال عوام کے خلاف ہونے والے فیصلے سے فوری طور پر دستبردار ہو کر ملک کو دنیا کے مہذب قوموں اور ملکوں کی نظر میں شرمندگی سے بچائیں۔
خوشحال خان کاکڑ نے اپنے پارٹی کا نام پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے نام سے اعلان کردیا

