کوئٹہ(ڈیلی گر ین گوادر)نگراں وزیر اعلی بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے منگل کو شیخ خلیفہ بن زید میڈیکل کمپلیکس سریاب روڑ کوئٹہ کا دورہ کیا اور مختلف شعبوں کا معائنہ کیا نگراں وزیر اعلی نے ہسپتال میں مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا افتتاح بھی کیا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نگراں وزیر اعلی بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے کہا کہ صوبے میں عوام کو سرکاری سطح پر علاج معالجے کی بہتر اور معیاری سہولیات کی فراہمی کے لئے ہر سال ایک خطیر رقم مختص کی جاتی ہے ضرورت اس بات کی ہے مختص شدہ وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جائے تاکہ سرکاری سطح پر صحت کی معیاری سہولیات ہر فرد کے دسترس میں ہوں انہوں نے کہا کہ ٹرشری کئیر اسپتالوں کی مکمل فعالیت ضروری ہے تاکہ بلوچستان کے عوام کو علاج کے لئے دوسرے صوبوں کا رخ نہ کرنا پڑے

نگراں وزیر اعلی نے کہا کہ شیخ خلیفہ بن زید میڈیکل کمپلیکس میں ایچ ایم آئی ایس کی فعالیت سے اسپتال آنے والے تمام مریضوں کا ڈیٹا محفوظ ہوگا اور سنٹرل ڈیٹا بیس سے منسلکی کے باعث مریضوں کو تمام شعبوں میں طبی معاونت با آسانی میسر آ سکے گی اس کے ساتھ ساتھ پوسٹ گریجویٹ مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی فعالیت سے اسپتال کی طبی سروسز میں مزید بہتری آئے گی، شیخ خلیفہ بن زید میڈیکل کمپلیکس کے دورے کے موقع پر نگراں وزیر اعلی بلوچستان کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری صحت عبداللہ خان نے بتایا کہ صحت کے شعبے میں بہتری کے لئے نگراں وزیر اعلی بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی کی ہدایت پر اصلاحات کا عمل جاری ہے صوبے کے تمام اضلاع میں ادویات کی سپلائی جاری ہے شیخ خلیفہ بن زید میڈیکل کمپلیکس میں 2018 سے التوا کا شکار ایچ ایم آئی ایس منصوبہ ایک ہفتے میں مکمل کر لیا گیا ہے اور ہماری کوشش ہے محکمہ صحت میں زیر التوا تمام منصوبے مکمل کرکے علاج معالجے کی بہتر سہولیات کو یقینی بنایا جائے اس موقع پر شیخ خلیفہ بن زید میڈیکل کمپلیکس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے بتایا کہ 250 بیڈ کے اس اسپتال میں جدید طبی مشینری اور علاج کی معیاری سہولیات میسر ہیں اور سروسز کی بہتری کیلئے اقدامات جاری ہیں انہوں نے کہا کہ اسپتال میں جاری منصوبوں کی تکمیل سے طبی سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی اس موقع پر نگراں وزیر اعلی بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے ہاسپٹل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی تکمیل اور مختلف شعبوں میں نمایاں طبی خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹروں اور ہیلتھ کئیر اسٹاف کو شیلڈز دیں۔

