کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)سیکرٹری صحت بلوچستان عبداللہ خان نے کہاہے کہ فیسٹولا ایک ایسی حالت ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں کم از کم 20 لاکھ جبکہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 5 ہزارغریب اور پسماندہ خواتین اور لڑکیوں کواس مرض کی وجہ سے تکلیف اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ بات انہوں نے پیر کو مقامی ہوٹل میں ایم این سی ایچ اور یو این ایف پی اے کے تعاون سے فیسٹولا کی شناخت اور علاج سے متعلق منعقدہ سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سیمینار سے ڈاکٹر شیرشاہ،صوبائی کوارڈنیٹر ایم این سی ایچ ڈاکٹر گل سبین اعظم غوریزئی،پروگرام کواڈنیٹر یواین ایف پی اے انیتا آہوجا،پروفیسر ڈاکٹر حق نواز،ڈاکٹر بلقیس اوردیگر نے بھی خطاب کیا۔ سیکرٹری عبداللہ خان نے کہا کہ سول ہسپتال کوئٹہ، بی ایم سی اور شیخ زید ہسپتال کے یورالوجی ڈپارٹمنٹ میں فیسٹولا وارڈ کو فعال کیا جاے گا،ایم این سی ایچ پروگرام ضلعی ہیڈکوارٹر کے ہسپتالوں میں فیسٹولا کی بیماری کے علاج کے لیے فوری طور سینٹرز بناے فیسٹولا کے حوالے سے آگاہی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صوبائی کوارڈنیٹر ایم این سی ایچ ڈاکٹر گل سبین اعظم غوریزئی ڈاکٹر گل سبین غوریزئی نے کہا کہ ہزاروں خواتین فیسٹولا کی بیماری کی وجہ سے معاشرے سے کٹ کر رہ گئی ہیں اور وہ الگ تھلگ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں بلوچستان بھر میں زچگی کی صحت کے بارے میں شعور اجاگر کرنے اور فیسٹولا کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنا ہونگے فیسٹولا کا مسئلہ صحیح طبی امداد سے روکا جا سکتا ہے۔انہون نے کہاکہ فیسٹولاایک قابل علاج مرض ہے فیسٹولا کی سینکڑوں مریض عورتیں آپریشن کے بعد صحت یاب ہوکر معمول کی زندگی گزار رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جن لڑکیوں کی کم عمری میں شادی کردی جاتی ہے انکا جسم اور ہڈیاں کمزور ہوتی ہیں جسم اور ہڈیوں کی مکمل نشوونما سے پہلے اگرانکے ہاں بچے پیدا ہوں تو انہیں فیسٹولا کی بیماری لاحق ہوسکتی ہے۔پروگرام کواڈنیٹر یواین ایف پی اے انیتا آہوجا نے سیمینار کے شرکا سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ حکومت کو تولیدی صحت، غربت اور کم عمری کی شادی کے مسئلے کو ترجیح دینی چاہیے اگر زچگی کا عمل تربیت یافتہ ڈاکٹرز، مڈوائف یا کسی تجربہ کار طبی ماہر کی نگرانی کے بغیر خاصی دیر تک جاری رہے اور زچگی کے دوران بچے کا سر پیلوس میں پھنس جاے تو اس کی وجہ سے مثانے کے پٹھے عضلات سر کی مسلس رگڑ سے کمزور ہو جاتے ہیں اور ان میں سوراخ ہو جاتا ہے اس سوراخ کی وجہ سے پیشاب کی نالی یوریتھرا کے ذریعے باہر آنے کے بجاے عورت کی جنسی نالی وجائنا کے راستے بہنا لگتا ہے چونکہ وجائنا میں پیشاب کو ارادے کے ذریعے کنٹرول کرنے کا نظام نہیں ہوتا اس لیے پیشاب مسلسل بہتا رہتا ہے اس لیے اس بیماری کو وجائنل فیسٹولا کہتے ہیں فیسٹولا کی روک تھام کے لیے تمام وسائل کو بروئے کارلاناہوگاانہوں نے کہا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ ”فیسٹولا اب نہ صرف قابل علاج ہے بلکہ روکا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر شیرشاہ نے کہا کہ اب تک بلوچستان میں 1704 فیسٹولا کے مریضوں کا علا ج ہوچکا ہے فیسٹولا کے مرض میں مبتلا ہیں سینکڑوں عورتیں آپریشن کے بعد صحت یاب ہو کر معمول کی زندگی گزار رہی ہیں اپنے خاندان، پڑوس اور محلے بستی میں فیسٹولا کی مریضہ کی مدد کر کے آپ اسے معمول کی زندگی میں واپس لا سکتی ہیں تاکہ وہ تکلیف دہ بیماری سے چھٹکارا پاکر ایک بار پھر صحت مند ہو اور اپنے بچوں اور خاندان کی دیکھ بھال کر سکے۔پروفیسر ڈاکٹر حق نواز نے کہا کہ فیسٹولا ان خواتین کو ہوتا ہے جو طویل عرصے تک حمل کا تجربہ کرتی ہیں اور اگر علاج نہ کیا جائے تو سنگین پیچیدگیاں پیدا کرتی ہیں۔
بلوچستان بھر میں زچگی کی صحت کے بارے میں شعور اجاگر کرنے اور فیسٹولا کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنا ہونگے، سیکرٹری صحت

ٹیگز:
سیکرٹری صحت
