بیجنگ(ڈیلی گرین گوادر) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے چین سے شمالی علاقوں میں نمونیا کی پراسرار قسم کے تیزی سے پھیلنے پر تفصیلات طلب کرلی ہیں۔بیجنگ سمیت شمالی چین کے مختلف حصوں میں نظام تنفس کے امراض بالخصوص نمونیا کے کیسز بچوں میں بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں مگر اب تک اس کی وجہ سمجھ نہیں آسکی ہے۔ چین سے بچوں میں نظام تنفس کے امراض اور نمونیا کے پھیلاؤ پر تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔
شمالی چین میں بچوں میں نمونیا کی کسی پراسرار قسم کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔اسی میڈیکل کمیونٹی نے 2019 میں چین کے شہر ووہان میں ایک نامعلوم بیماری کے پھیلاؤ پر بھی سوالات اٹھائے تھے جسے بعد میں کووڈ 19 قرار دیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بیجنگ لیاؤننگ اور شمالی چین کے دیگر حصوں کے اسپتالوں میں بیمار بچوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کی جانب سے کلینیکل اور دیگر تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے جبکہ بیمار بچوں کے لیبارٹری ٹیسٹوں کے نتائج بھی دینے کا کہا گیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ایمرجنسی پروگرام کی عہدیدار ڈاکٹر Krutika Kuppalli نے ایک ایکس پوسٹ میں کہا کہ لاک ڈاؤن ختم کیے جانے کے بعد متعدد ممالک میں نظام تنفس کے امراض تیزی سے پھیلے، تو چین میں پھیلنے والی بیماری بھی اس سے متعلق ہوسکتی ہےعالمی ادارے کی جانب سے چینی عوام پر زور دیا گیا کہ وہ نظام تنفس کے امراض سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ کووڈ 19 کے اولین کیسز 2019 کے اختتامی ہفتوں میں سامنے آئے تھے اور اس وقت انہیں بھی نمونیا کی پراسرار قسم قرار دیا گیا تھا۔اس بیماری سے پہلی موت جنوری 2020 میں ہوئی اور اسی مہینے چین کی جانب سے کورونا وائرس کے جینیاتی سیکونس کی تفصیلات دنیا بھر سے شیئر کی گئی تھیں۔

