اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)ڈیفنس آف ہیومن رائٹس اور جبری گمشدہ افراد کے لواحقین نے اسلام آباد ڈی چوک پر پرامن احتجاجی مظاہرہ کیاڈیفنس آف ہیومن رائٹس نے لاپتہ افراد کے لواحقین کے ہمراہ مطالبہ کیا ہے کہ تمام جبری گمشدہ افراد کو جلد از جلد رہا کیا جائے،اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں آئین و قانون کے مطابق عدالتوں کے روبرو پیش کیا جائے۔یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے اس انتہائی اہم مسئلے کے حل کیلئے فوری اقدام ناگزیر ہے، اسے کسی صورت حق بجانب قرار نہیں دیا جا سکتا کہ کسی کو قصور بتائے بغیر غائب کر دیا جائے اور ورثاء کو انتظار کی سولی پر لٹکا دیا جائے،لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کر کے وطن عزیز سے ایسی کہانیوں کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کیا جائے۔
ڈی ایچ آر اور جبری گمشدہ افراد کے لواحقین نے اسلام آباد ڈی چوک پر پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا،جس میں جبری گمشدہ افراد کی ماؤں بہنوں بیٹیوں اور بیویوں نےجبری گمشدہ پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ورثاء نے یہ عہد کیا کہ ہم زندگی کی آخری سانس تک اپنے پیاروں کو نہیں بھولیں گے اور ان کی بازیابی تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔
کیس کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2005 میں سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا، 26 اکتوبر 2018 تک عدالت عظمیٰ میں لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت چلتی رہی مگر 2018 میں تمام مقدمات سپریم کورٹ سے خارج کر کے کمیشن آف انکوائری کو منتقل کر دیئے گئے،بعدازاں متعدد درخواستیں دائر کی گئیں مگر سپریم کورٹ نے ان مقدمات کی سماعت شروع نہیں کی۔
ڈیفنس آف ہیومن رائٹس نے نو اکتوبر 2023 کو ایک نئی درخواست دائر کی ہے لیکن ابھی تاحال اس پر سماعت نہیں ہوئی۔بتایا گیا کہ پاکستان میں سالہا سال سے یہ مسئلہ حل طلب ہے،متعدد کمیشن اور کمیٹیاں تشکیل دی گئیں لیکن ان کا نتیجہ صفر نکلا ہے،سابق وزیر قانون فروغ نسیم کی سربراہی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی،سابق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور سابق ممبر پارلیمنٹ سردار اختر مینگل کی سربراہی میں بھی ایک ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، موجودہ وزیرداخلہ سرفراز بگٹی کی سربراہی میں پھر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
ڈیفنس آف ہیومن رائٹس نے تمام لاپتہ افراد کے لواحقین کے ہمراہ مطالبہ کیا ہے کہ جلد از جلد ہمارے پیاروں کو رہا کیا جائے, اگر ان پر اوپر کوئی الزام ہے تو انہیں آئین اور قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، فیئر ٹرائل کا موقع دیا جائے، انہیں باعزت طور پر رہا کر کے ان کے اہل خانہ کے حوالے کیا جائے۔
قبل ازیں سپریم کورٹ کے سامنے ڈی ایچ آر کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے لاپتہ افراد کے ورثاء کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ سے امید ہے کہ وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیتے ہوئے ان مظلوموں کو بلا تاخیر انصاف فراہم کرینگے۔ان کا کہنا کہ گلہ شکوہ اسی سے ہوتا ہے جس سے امیدیں وابستہ ہوتی ہیں، ہمیں تئیس سال سے انصاف نہیں ملا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مطالبہ ہے کہ لاپتہ مقدمات کی فوری سماعت شروع کریں۔
انہوں نے استدعا کی کہ کمیشن کو بند کیا جائے، لواحقین اور ججوں پر مشتمل کمیشن تشکیل دیا جائے اور سچائی اور مصالحت کمیشن بھی تشکیل دیا جائے جس میں ورثا کو حقائق سے آگاہ کیا جائے اور اگر کسی کا پیارا دنیا میں نہیں رہا تو بین الاقوامی معیار کے مطابق معاوضہ دیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگی کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

