کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان ہائی کورٹ کے ججز جسٹس عبداللہ بلوچ اور جسٹس محمد عامر نواز رانا پر مشتمل بینچ نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی جانب سے ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے بعد توہین عدالت کی کاروائی کے لئے دی جانے والی درخواست نمٹا دی۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کے لئے درخواست قر العین ملک نے دائر کی تھی جنہوں نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے زیر اہتمام سی ایس ایس کے مقابلے امتحان 2022 کے لئے بطور امیدوار کوالیفائی کیا تھا لیکن ان کا رزلٹ کمیشن نے ان کی امیدوارانہ حیثیت CSS.CE رولز2019کے تحت مسترد کرتے ہوئے روک دیا تھا جسے درخواست دہندہ نے بلوچستان ہائی کورٹ میں سی پی نمبر 778/2023 کے ذریعے چیلنج کیا۔ معزز عدالت نے مورخہ 7 اگست 2023 کو اس پر فیصلہ سنایا کہ FPSC درخواست دہندہ کے امتحانی نتیجے اور انکی گروپ ایلوکیشن کا اعلان کرے۔ عدالت عالیہ بلوچستان کے اس فیصلے کو FPSC نے سپریم کورٹ میں 3562/2023.CPLA No کے ذریعے چیلنج کیا جسکا فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔ دریں اثنا درخواست دہندہ نے بلوچستان ہائی کورٹ کے مورخہ 7 اگست 2023 کے فیصلے کی عدم تعمیل پر FPSC کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کے لئے کیس دائر کر دیا توہین عدالت کی درخواست کے پیش نظر معزز عدالت کے مورخہ 7 اگست 2023 کے فیصلے کی تعمیل میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست CPLA NO 3562/2023 کے فیصلے سے مشروط کرتے ہوئے درخواست دہندہ کے رزلٹ اور ایلوکیشن گروپ کا اعلان کر دیا۔ بعد ازاں درخواست دہندہ قر العین ملک کی جانب سے ہائی کورٹ کے فیصلہ کی تعمیل پر اظہار اطمینان اور توہین عدالت کی کاروائی مزید جاری نہ رکھنے کی خواہش پر معزز عدالت نے یہ درخواست نمٹا دی۔
فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی جانب سے ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے بعد توہین عدالت کی کاروائی کے لئے دی جانے والی درخواست نمٹا دی

ٹیگز:
ہائی کورٹ
