اسلام آباد (ڈیلی گرین گوادر) وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی نے 99فیصد کام مکمل کر لیا اورتمام نکات پر اتفاق ہو گیا ہے اور سیاسی جماعتوں پر پابندی کا معاملہ کمیٹی کے ایجنڈے سے نکال دیا گیا ہے۔انتخابی اصلاحات کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو چیئرمین ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، سینیٹر تاج حیدر سمیت دہگر رہنماؤں نے شرکت کی جبکہ تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر آن لائن شریک ہوئے۔
ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں انتخابات کے بروقت انعقاد، شفاف انعقاد کے حوالے سے اصلاحات، دھاندلی روکنے کے لیے اقدامات کے ساتھ ساتھ سمندر پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سمیت مختلف امور پر گفتگو کی گئی۔انتخابی اصلاحات کے تیسرے ان کیمرہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں پر پابندی کے معاملے کو ایجنڈے سے نکال دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی نے 99فیصد کام مکمل کر لیا ہے اور جن نکات پر اتفاق نہیں تھا ان پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک دو معاملات پر پی ٹی آٸی کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا لیکن یہ معاملات اتنے حساس نہیں کہ انہیں حل نہ کیا جا سکے، پی ٹی آئی کے تحفظات کو مل بیٹھ کر حل کر لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے انتخابات میں الیکشن کمیشن کا رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم(آر ٹی ایس) وقت لینے اور ہیر پھیر کرنے کے لیے ایک کور تھا لیکن اب براہ راست نتیجہ فارم 45 کی شکل میں اسٹیشن پر بھیجا جائے گا، پچھلی مرتبہ فارم 45 نہیں تھا اور صرف فارم 128 تھا، لیکن اس مرتبہ فارم 45 کی کاپیاں تمام امیدواروں اور الیکشن کمیشن کے ریٹرننگ افسر کو دی جائیں گی۔
دھاندلی سے نمٹنے کے لیے اقدامات کے حوالے سے سوال پر سینیٹر نے کہا کہ 100فیصد کوئی چیز نہیں ہوتی لیکن ماضی کے تجربات کی روشنی میں ہم نے شفافیت کے قیام کی کوشش کی ہے۔

