اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر) اسلام آباد پولیس نے ضلع کے تمام ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کو لانگ مارچ کے شرکا کو کمرے دینے سے منع کردیا ہے۔تحریک انصاف کا لانگ مارچ گزشتہ روز لاہور سے شروع ہوچکا ہے، اور وفاقی حکومت اور پولیس نے بھی اپنی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔
اسلام آباد پولیس نے ضلع میں تمام ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کیلئے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے، جس میں ہوٹل مالکان سے کہا گیا ہے کہ وہ لانگ مارچ کے شرکا سے کسی طرح کا بھی تعاون نہ کریں۔پولیس کی جانب سے جاری کئے گئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس لانگ مارچ کے شرکا کو کمرے نہ دیں، اور لانگ مارچ کے حوالے سے آنے والے کسی بھی فرد کو ہوٹلز میں نہ ٹھہرائیں۔اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ تمام ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کی روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ ہوگی، لانگ مارچ کے شرکا کو کمرے دینے یا تعاون کرنے پر کارروائی ہوگی۔
گزشتہ روز اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے بھی تحریک انصاف کی فوری این او سی جاری کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تحریک انصاف کی قیادت کو خط لکھا گیا ہے جس میں نئے معاہدے کے لئے ہر شق کی اطمینان بخش یقین دہانیاں طلب کی گئی ہیں۔اسلام آباد ضلعی انتظامیہ نے نیا خط جاری کرکے تحریک انصاف کو درخواست مسترد کرنے کی وجہ بھی بتادی ہے، اور یاد دلایا کہ 25 مئی کو بھی انتظامیہ کی جانب سے این او سی جاری کیا گیا تھا، تاہم اس میں درج معاہدوں کی خلاف وزریاں کی گئی تھیں۔
سیکیورٹی پلان کے مطابق تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے لئے 13 ہزار 86 سيکيورٹی اہلکار تعینات کئے جائیں گے، جن کی نگرانی 2 ڈی آئی جی، 4 ایس ایس پی،11 ایس پی کریں گے۔ جب کہ 30 اے ایس پی اور ڈی ایس پی بھی ڈيوٹی انجام ديں گے۔
سیکيورٹی پلان کے مطابق لانگ مارچ میں وفاقی پولیس کے مجموعی طور پر 4 ہزار 190 افسران و اہلکار تعینات ہوں گے، ايف سی کے 4 ہزار 265 اور رينجرز کے 3 ہزار 600 اہلکار تعينات ہوں گے، جب کہ سندھ پولیس کے 1 ہزار 22 افسران و اہلکار بھی منگوا لئے گئے ہیں۔
کسی بھی ممکنہ اشتعال انگیزی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کیلئے سيکيورٹی اہلکاروں کو 616 آنسو گیس گنز اور 50 ہزار 50 شیل فراہم کر ديئے گئے ہیں، جب کہ 611 بارہ بور گنز اور 36 ہزار 700 ربر کی گولياں بھی فراہم کر دی گئی ہيں۔سیکیورٹی پلان کے مطابق پوليس کو 2 ہزار 430 ماسک اور 374 گاڑیاں بھی فراہم کی گئی ہیں، فيلڈ ميں تعينات اہلکاروں کو ہر صورت غير مسلح رہنے کی ہدايت کی گئی ہے۔

