کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان میں کمیونٹی اساتذہ کی جانب گذشتہ 10 دنوں سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہےان کے نمائندوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر اساتذہ پچھلے 15 سالوں سے صوبےکے دور دراز علاقوں میں بچوں کو پڑھا رہے ہیںلیکن حکومت نے انہیں مستقل ملازمتیں نہیں دی ہیں بلکہ اب انکی تنخواہیں بھی بند کی ہےکوئٹہ پریس کلب کے سامنے بلوچستان کی کمیونٹی اساتذہ کے نمائندوں اور کارکنوں کی جانب سے گزشتہ دس دنوں سے احتجاج جاری ہے اور کہا ہے کہ جب تک انکے مطالبات تسلیم نہیں یونگے اس وقت تک وہ کوئٹہمیں اپنا احتجاج جاری رکھیں گے
ملازمین کے مطابق بلوچستان حکومت نے ورلڈ بنک کے تعاون سے صوبے کے دور دراز علاقوں میں 2007میں ایک منصوبہ شروع کیا تھا جہاں پہلے نہ سکول موجود تھا اور نہ ہی بچوں کو پڑھانے کے لیے کواستازخدمات سرانجام دے رہا تھا
اس بار ے میں کمیونٹی اساتذہ کے صوبائی آفس سیکرٹری ارباب خان نے بتایا کہ 15 سال گزرنے کے بعد بھی وہ مستقل نہیں ہوئے۔اور جس وقت ہم نے تعیناتی کے احکامات حاصل کیے تھے اس وقت حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ تین سال بعد ہمیں مستقل کیا جا ے گا جس پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوسکا

