کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کے لئے ایک روپیہ بھی کہیں نہیں دیا نہ کسی نے مانگا ہم پیسے دینے کی پوزیشن میں ہیں اور نہ ہی کسی کو پیسے دیں گے اگر ہمارے پاس پیسے ہوتے تو ہمارے اراکین کو اٹھایا نہیں جاتا،حکومت اپوزیشن یا کسی اور کو فنڈز نہیں دے رہی بلکہ ناانصافیوں اور نظر انداز ہونے والے علاقوں کی ترقی کے لئے کام کر رہی ہے تبدیلی جہاں چاہے آسکتی ہے حکومتیں مشکل حالات کا مقابلہ کر سکتی ہیں میں عدم اعتماد کے معاملے پر فکر مند نہیں ہو ں جب تک ہوں عوام کے ساتھ رہونگا اور انکی بہتری کے لئے کام کر ونگا کل نکلنا ہے تو نکل جاؤنگا کوئی مسئلہ نہیں ہے،عوام کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنا رہے ہیں عوام فکر مند نہ ہوں صوبہ بند نہیں کریں گے،یہ بات انہوں نے جمعرات کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو، رکن صوبائی اسمبلی خلیل جارج، چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا سمیت دیگر بھی انکے ہمراہ تھے،وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ مرکز تحریک عدم اعتماد کا خود مقابلہ کر لیگا ہم اپنے صوبے میں امن وامان اور دیگر معاملات بہتر کریں گے انہوں نے کہا کہ تبدیلی جہاں چاہے آسکتی ہے جب تبدیلی آنی ہو تو ہم اسے روک نہیں سکتے بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے مشاورت کر رہے ہیں وہ فیصلہ کرلیں گے انہیں کہا ہے کہ وہ بلوچستان اور ملک کے مفاد میں اچھے فیصلے کریں انہوں نے کہا کہ حکومتیں مشکل حالات کا مقابلہ کر سکتی ہیں میں عدم اعتماد کے معاملے پر فکر مند نہیں ہو ں جب تک ہوں عوام کے ساتھ رہونگا اور انکی بہتری کے لئے کام کر ونگا کل نکلنا ہے تو نکل جاؤنگا کوئی مسئلہ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ میں اور جام کمال آمنے سامنے نہیں ہیں ہمارے کوئی لوگ ناراض نہیں جام صاحب ہم ہیں اور ہم جا م صاحب ہیں سیاسی لیڈران سے ملاقات کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے سردار اختر مینگل، محمود خان اچکزئی،مولانا عبدالواسع سمیت سب کے پاس گیا ہوں صوبے میں امن و امان کی بہتری، عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لئے عام آدمی کے پاس بھی جاؤنگا تاکہ ہم ایک دوسرے سے جڑ جائیں کسی سے ملنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ صوبے میں تبدیلی لارہے ہیں تبدیلی آنا جانا میرامسئلہ نہیں ہے ایک دن وزیراعلیٰ رہوں یا 100دن عوام کے لئے کام کرونگا ایک سوال کے جواب میں میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ نہ ہمارے پاس پیسے ہیں اور پیسے دیں گے کس کو اگر ہمارے پاس پیسے ہوتے تو ہمارے اراکین کو اٹھایا نہیں جاتا ارکان ہمارے غائب ہوگئے تھے اگر ہمارے پاس پیسے ہوتے تو اسے عوام پر خرچ کرتے کسی کو دینے کے لئے ہمارے پاس پیسے نہیں ہم نے ایک دوسرے کو کھانا کھلایا ہے اس کے علاوہ ایک روپیہ بھی کہیں نہیں دیا نہ کسی نے مانگا نہ دینے کی پوزیشن میں ہیں نہ ہی کسی کو پیسے دیں گے۔وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ امن و امان پر اہم اجلاس منعقد کیا ہے جس میں صوبے میں جہاں ضرورت ہوئی وہاں حفاظتی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے صوبے میں اسکول بند یا امتحانات منسوخ نہیں ہونگے تھرٹ الرٹ آتے رہے ہیں انکی وجہ سے صوبے کو بند نہیں کر یں گے اس بار معاملہ مس ہینڈل کیا گیا جس پر محکمانہ کاروائی کی جائیگی انہوں نے کہا کہ عوام اپنی مذہبی، سماجی رسومات اور تہوار مطمئن ہو کر منائیں سیکورٹی فورسز نے پہلے بھی عوام کا تحفظ کیا ہے اور آئندہ بھی کرتی رہیں گی حکومت اپنی رٹ قائم کرنا جانتی ہے بد امنی پھیلانے والے عناصر نے پہلے بھی منہ کی کھائی ہے آئندہ بھی انہیں منہ کی کھانا پڑیگی ہم کسی کو بھی حکومتی رٹ کو چیلنج نہیں کرنے دیں گے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سے آنے کے بعد اپنے اسٹاف کو کہا کہ میں بازار جانے کے لئے تیارہوں کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اسلام آباد میں آئندہ مالی سال کے بجٹ، ساؤتھ اور نارتھ بلوچستان پیکجز سمیت دیگر اہم معاملات پر اجلاس تھے جن میں شرکت کے لئے گیا تھا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبے میں غیر قانونی ٹرالنگ بند کردی گئی ہے سرحدیں کھلی ہیں حکومت کی اولین ترجیح عوام کو روزگار کی فراہمی ہے سرکاری ملازمتوں پر بھرتی کا عمل نہیں روکا گیا عوام کو جب تک باعزت روزگار فراہم نہیں کرتے انکا کوئی اور روزگار بند نہیں کریں گے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن یا کسی اور کو فنڈز نہیں دے رہی بلکہ ناانصافیوں اور نظر انداز ہونے والے علاقوں کی ترقی کے لئے کام کر رہی ہے اپوزیشن ارکان اسمبلی پر گاڑیاں چڑھائی گئیں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہواحکومت بلوچستان کی بہتری اور ترقی کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اب تین سال کی نسبت دھرنے، ریلیاں نظر نہیں آرہی ہیں جہاں تک سمجھتے تھے کہ ریلیف دے سکتے تھے ریلیف دے رہے ہیں بات چیت کے ذریعے ہی تمام لوگوں کے مسائل حل کئے جائیں گے ملازمین کی تنخواہیں بڑھنی چاہیئں اس وقت صوبے کی مالی پوزیشن ایسی نہیں ہے کہ تنخواہیں مزید بڑھائیں مستقبل میں ریکوڈک سمیت دیگر منصوبوں پر کام شروع ہونے سے صوبے کی مالی پوزیشن مزید بہتر ہوگی انہوں نے کہا کہ سبی میلہ کے افتتاح کے موقع پر کورونا وائرس کا شکار تھا جبکہ اختتامی تقریب میں کئی سالوں بعد صدر مملکت نے شرکت کی اس روز ریکوڈک سمیت دیگر معاملات پر ایک اہم اجلاس کی وجہ سے تقریب میں نہیں جا سکا تھا ہم نے سبی میلہ کوتاریخی بنایا۔
بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کیلئے ایک روپیہ بھی کہیں نہیں دیا نہ کسی نے مانگا، میرعبدالقدوس بزنجو

ٹیگز:
میرعبدالقدوس بزنجو
