تہران(ڈیلی گرین گوادر)ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ تنازع شروع ہونے کے امکان سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جنگ بندی اسی صورت ممکن ہے جب تمام محاذوں پر لڑائی مکمل طور پر بند ہو۔‘ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بات ’کمال خرازی دستاویزی مرکز اور میوزیم‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کے مطابق پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے تمام مذاکرات میں یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے۔
کمال خرازی ایران کے سابق وزیر خارجہ اور ملک کے سابق رہبر کے بین الاقوامی امور کے مشیر تھے۔ وہ امریکہ کے حملے میں زخمی ہونے کے بعد وفات پا گئے تھے۔عباس عراقچی نے اپنے خطاب میں ’جنگ کے ترجمانوں کی معاندانہ سرگوشیوں‘ سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس کی بھاری قیمت وصول کرے گا۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ایرانی میزائلوں نے زمین پر موجود درجنوں امریکی لڑاکا طیارے تباہ کر دیے۔‘عراقچی کے یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے امکان کا دوبارہ اظہار کرنے کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے۔واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’شاید مجھے یہ کام مکمل کرنا پڑے، یا شاید وہ راضی ہو جائیں۔‘ تاہم انھوں نے کہا کہ انھیں ابھی نتیجے کے بارے میں یقین نہیں ہے۔

