لاہور(ڈیلی گرین گوادر)، پیٹرن انچیف یو بی جی ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ بلوچستان بینک اور آسان کاروبار ایکٹ کی منظوری اہم پیش رفت ہے۔صوبائی دارالحکومت میں ایس ایم تنویر کا ’اکنامکس اینڈ انویسٹمنٹ‘ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بلوچستان میں کاروبار، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور معاشی ترقی کے لیے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں، بلوچستان بینک کی منظوری اور آسان کاروبار ایکٹ کی منظوری صوبے میں کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔پیٹرن انچیف یوبی جی ایس کا وزیراعلیٰ بلوچستان کی تعریف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ ایک بہادر انسان ہیں، بلوچستان کے لوگوں کو ایسا وزیراعلیٰ دوبارہ نہیں ملے گا، بلوچستان کے ہر شعبے میں کام ہو رہا ہے اور صوبے کی ترقی کے لیے مختلف شعبوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔
ایس ایم تنویر نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے ہر بچے کو پڑھانا ہے، صوبے کے بچوں کو تعلیم دلوانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے تاکہ انہیں بہتر تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔اُن کا صحت کے شعبے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بلوچستان کے ہسپتالوں کو بھی بہتر بنانا ہے، صوبے میں تعلیم، صحت اور کاروبار سمیت تمام اہم شعبوں کی بہتری کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
پیٹرن انچیف یو بی جی ایس کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی، عوام کی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولتوں کی بہتری کے لیے اقدامات جاری رکھنے کی ضرورت ہے، جبکہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کو مزید مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور ہدایات کے مطابق بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ (BBoIT) اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے اشتراک سے بلوچستان اکنامک اینڈ انویسٹمنٹ فورم 2026 لاہور میں منعقد ہوا، جس میں بلوچستان میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات، کاروباری اشتراک، صنعتی ترقی اور مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع کو اجاگر کیا گیا۔فورم کا مقصد ملکی سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو بلوچستان کی معاشی استعداد، قدرتی وسائل اور سرمایہ کاری کے سازگار امکانات سے آگاہ کرنا، نجی شعبے کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانا اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی راہ ہموار کرنا تھا۔

فورم کے مہمانِ خصوصی ایس ایم تنویر، سرپرستِ اعلیٰ یونائیٹڈ بزنس گروپ (UBG) اور سابق صوبائی وزیر حکومت پنجاب نے اپنے خطاب میں سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری اشتراک اور معاشی ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اکنامک اینڈ انویسٹمنٹ فورم 2026 صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری روابط کے استحکام اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ جس سے بلوچستان کے معاشی امکانات کو اجاگر کرنے اور وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے ترقیاتی وژن کے مطابق صوبے کو سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے ایک پرکشش مقام بنانے کی کوششوں فروغ ملے گا۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈکے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے صوبے میں سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور معاشی ترقی کے وژن کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔بلال خان کاکڑ نے اس امر پر زور دیا کہ بلوچستان میں پائیدار معاشی ترقی کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان اشتراک ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے فورمز سرمایہ کاروں کو صوبے میں موجود مواقع سے آگاہ کرنے، کاروباری روابط کو وسعت دینے اور باہمی تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ فورم سے ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ،کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سرپرستِ اعلیٰ حاجی غلام فاروق خلجی نے بھی خطاب کیا،جبکہ بی بی او آئی ٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبد المنان نے ادارے کے کردار، سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جاری اقدامات اور صوبے میں موجود کاروباری مواقع پر تفصیلی بریفنگ دی۔ شرکاء کو بزنس فیسلیٹیشن سینٹر (BFC)، بلوچستان کے معدنی وسائل اور بلوچستان بزنس ایکسپو سے متعلق تشہیری ویڈیوز بھی دکھائی گئیں۔فورم میں لسبیلہ انڈسٹریل اسٹیٹس ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LIEDA) کے منیجنگ ڈائریکٹر لیاقت علی کاشانی، محکمہ ماہی گیری بلوچستان کی ڈپٹی ڈائریکٹر نگہت نورالدین، کمانڈر سینٹرل پنجاب لاہور ریئر ایڈمرل سہیل احمدا عظمی ہلالِ امتیاز (ملٹری)، محکمہ مائنز اینڈ منرل ڈویلپمنٹ بلوچستان کے ڈائریکٹر کوآرڈینیشن اینڈ ڈویلپمنٹ محمد اکمل احمد اور سیکرٹری محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بلوچستان صالح محمد بلوچ نے اپنے اپنے شعبوں سے متعلق پریزنٹیشنز پیش کیں۔ اس دوران سوال و جواب کے سیشن میں شرکاء کو مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات اور دستیاب مواقع کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔


