لاہورد(ڈیلی گرین گوادر) سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے منصورہ آڈیٹوریم میں ضلع غربی کے ارکان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناظمہ کا انتخاب ذاتی پسند و ناپسند یا تعلقات کے بجائے دستورِ جماعت میں طے شدہ معیار، تقویٰ، صلاحیت، قابلیت اور عملی کارکردگی کے مشاہدے کی بنیاد پر کیا جائے۔ ناظمہ کے لیے محض فرد کی شخصیت نہیں بلکہ اس کی انتظامی صلاحیت، فیصلہ سازی، منصوبہ بندی اور افراد کو ساتھ لے کر چلنے کی استعداد بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ارکانِ شوریٰ اپنے علم، تجربے، مشاہدے اور تجزیے کی بنیاد پر مسائل کا جائزہ لیں، غوروفکر کریں اور ان کے حل کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کریں۔ شوریٰ کی ذمہ داری صرف رائے دینا نہیں بلکہ منصوبوں کی نگرانی، اہداف کے حصول اور تنظیمی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مؤثر کردار ادا کرنا بھی ہے۔ قیادت کا انتخاب ایک اہم امانت ہے، اس لیے امیدوار کی تنظیمی صلاحیت، وقت دینے کی آمادگی، قربانی کے جذبے اور ذمہ داری نبھانے کی استعداد کو مدنظر رکھا جائے۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے واضح کیا کہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی کا تنظیمی نظم جماعت اسلامی کے مجموعی دستور اور مرکزی نظم سے مربوط ہے، لہٰذا انتخابی عمل میں مقررہ اصولوں اور طریقۂ کار کی پابندی ضروری ہے۔ استصواب کے عمل میں نظم کی رائے شامل ہو سکتی ہے، تاہم انتخابی اختیار اور اس کے طریقۂ کار کا تعین دستور کے مطابق ہونا چاہیے۔ امیدوار کے گھریلو حالات، وقت کی دستیابی اور ذمہ داریوں کو نبھانے کی صلاحیت کا جائزہ لینا ضروری ہے، لیکن کسی کے حق میں براہِ راست رائے طلب کرنے کے بجائے طے شدہ اصولوں کو سامنے رکھا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جماعتی قیادت کا منصب محض انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ دینی، اخلاقی اور اجتماعی جواب دہی کا تقاضا کرتا ہے۔ قیادت وہی مؤثر ہوتی ہے جو افراد کی صلاحیتوں کو پہچانے، انہیں ساتھ لے کر چلے اور اجتماعی مقصد کے حصول کے لیے درست فیصلے کرے۔ تنظیمی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ ہر ذمہ دار اپنی رائے علم، دلیل اور مشاہدے کی بنیاد پر دے اور فیصلوں میں ذاتی پسند و ناپسند کو حائل نہ ہونے دے۔ ارکانِ شوریٰ اختلافِ رائے کو تعمیری انداز میں پیش کریں تاکہ بہتر فیصلوں اور مؤثر منصوبہ بندی کی راہ ہموار ہو۔ موجودہ حالات میں خواتین کو مہنگائی، تعلیم، صحت اور گھریلو اخراجات سمیت متعدد مسائل کا سامنا ہے؛ ان مسائل کے حل کے لیے باصلاحیت قیادت اور منظم عوامی جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جماعتی نظم کی مضبوطی اسی وقت معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے جب تنظیم کے اندر اصول، امانت اور جواب دہی کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔

مزید برآں ڈپٹی سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان اور نگران مرکزی میڈیا سیل ثمینہ سعید نے ضلع جنوبی حلقہ لاہورکے ارکان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناظمہ کے انتخاب کے موقع پر ساتھیوں سے ذاتی مشورے کرنے کے بجائے دستورِ جماعت کو معیار بنائیں، دعا کریں اور استخارہ کریں۔ پورا سال افراد کی صلاحیتوں، کردار، کارکردگی اور ذمہ داری نبھانے کی استعداد کا مشاہدہ کریں تاکہ موزوں قیادت کا انتخاب کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ شوریٰ اپنے ضلع کا ہاتھ پاؤں ہوتی ہے، جو منصوبوں پر گہری نظر رکھتی، مسائل کا تجزیہ کرتی اور ان کے حل کے لیے اصولی رائے دیتی ہے۔ قیادت کے انتخاب میں امیدوار کے گھریلو حالات، وقت کی دستیابی اور قربانی کے جذبے کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، لیکن کسی سے براہِ راست یہ رائے لینا کہ کس کو منتخب کیا جائے، درست طرزِ عمل نہیں۔
ثمینہ سعید نے کہا کہ مشورے کے نام پر کسی کی خوبیاں بیان کرنا اور کسی کی خامیاں گنوانا غیبت اور بدگمانی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے انتخابی عمل میں ذاتی پسند و ناپسند اور غیر ضروری گفتگو سے گریز کرتے ہوئے دستورِ جماعت کے معیار کو مقدم رکھا جائے۔ قیادت ایک اعزاز نہیں بلکہ امانت اور جواب دہی ہے؛ اس کا انتخاب اخلاص، بصیرت اور اصولوں کی پابندی کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اجتماع ارکان میں نئے ارکان کا حلف بھی لیا گیا اور غزہ کے مسلمانوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف قرارداد بھی منظور کروائے گئ۔


