کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر حلیم صادق نے صوبے میں آٹے کے بدترین بحران اور قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں 50 کلو آٹے کا تھیلا 8 ہزار روپے تک فروخت ہونا تشویشناک ہے، جس نے پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسنے والے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ عملی اقدامات کرنے کے بجائے اجلاسوں اور میٹنگز تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں، جبکہ عوام کو ذخیرہ اندوزوں اور منافع خور عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ خوراک کے متعلقہ ذمہ داران کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ آٹے کی قیمتوں پر قابو پانے، سرکاری نرخوں پر فراہمی یقینی بنانے اور مصنوعی بحران پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے محکمے کی جانب سے محض رسمی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے ساتھ مبینہ ملی بھگت اور بھتہ خوری کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔پروفیسر ڈاکٹر حلیم صادق نے کہا کہ سرفراز حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ صوبے میں غریب خاندان دو وقت کی روٹی کے حصول کیلئے پریشان ہیں، مگر حکومتی سطح پر آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور وافر فراہمی یقینی بنانے کیلئے مثر اقدامات دکھائی نہیں دے رہے۔ دوسری جانب محکمہ خوراک میں اقربا پروری کے ذریعے بھرتیوں کے الزامات بھی تشویش کا باعث ہیں، جن کی تحقیقات کرکے میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلی بلوچستان اور صوبائی وزیر خوراک فوری طور پر آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیں، کوئٹہ سمیت تمام متاثرہ اضلاع میں سرکاری نرخوں پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائیں، ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں اور محکمہ خوراک کی کارکردگی کا احتساب کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بنیادی غذائی ضرورت آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کیلئے ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے، حکومت نے فوری ریلیف فراہم نہ کیا تو عوام میں پائی جانے والی بے چینی مزید بڑھے گی۔
آٹے کا بدترین بحران، عوام کو مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے،پروفیسر حلیم صادق

ٹیگز:
پروفیسر حلیم صادق
