اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگائے جانے سے متعلق قرار داد بحث کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی ہے۔بدھ کو ساڑھے 11 کے قریب سپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں شروع ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی قرارداد پیش کی جسے سپیکر نے منظور کیا اور پھر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق صدارتی فرمان بارے میں قرارداد بحث کے لیے ایوان میں پیش کی۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس حوالے سے اپنے خطاب میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں اندرونی خلفشار اور بیرونی دراندازی کی وجہ سے ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کا دہشت گردی کے خلاف رویہ غیر سنجیدہ تھا اور سہیل آفریدی نے اپنی سیاست کو پروان چڑھانے کو ترجیح دی۔
آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت صدرِ مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس منظور کرتے ہوئے دستخط کیے۔ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ مارچ جاری تھا اور اس کے قائدین نے اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کر رکھا تھا۔ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہونے کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ساتھیوں سمیت حراست میں لیا گیا تھا اور لانگ مارچ بھی ختم ہو گیا تھا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کو سینیٹ اجلاس سے خطاب میں خیبر پختونخوا میں لگنے والی ایمرجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنا چاہتی تھی، تحریک انصاف کی تمام چھ تجاویز ماننے کے باوجود بات آگے نہ بڑھ سکی، گورنر راج اور ایمرجنسی آئین کے تحت لگائی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوج اور پولیس والےی شہادتیں دیتے تھے جبکہ وزیراعلٰی سہیل آفریدی ان کے خلاف تقریریں کرتے تھے، ہم نے سیاسی بات کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ایوان میں مذاکرات ہوئے، ہماری بات چیت شروع ہی دہشت گردی پر ہوئی تھی، دہشت گردی کے 7 سے 8 نکات پر بات ہوئی۔‘

