اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)، قومی اسمبلی اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا جس کے بعد اس اقدام کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں سے باقاعدہ توثیق ہو گئی ہے۔یہ قرارداد وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کی جانب سے 45 منٹ تاخیر سے شروع ہونے والے آج کے اجلاس میں پیش کی گئی تھی۔
اسیپیکر کی جانب سے آئٹم نمبر 5 پیش کرنے پر ڈاکٹر طارق فضل نے کہا کہ “میں یہ قرارد پیش کرتا ہوں کہ یہ کہ قومی اسمبلی، صدرِ مملکت کی جانب سے 11 اکتوبر 2026 کو آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل 232 کی شق (1) کے تحت صوبہ خیبر پختونخوا میں نافذ کردہ ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان کی منظوری دیتی ہے۔”
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صدر مملکت آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حکومت نے اس فیصلے کی وجہ صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتِ حال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت کے مبینہ عدم تعاون کو قرار دیا۔
قرار داد پیش کیے جانے کے بعد اسپیکر نے پوچھا کہ اس پر بحث کا آغاز کون کرے گا، بیرسٹر گوہر یا اپوزیشن لیڈر؟ اس پر تجویز سامنے آئی کہ حکومتی رہنما آغاز کریں جس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مائیک سنھبالا۔اس سے قبل ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وقفہ سوالات معطل کرنے سے متعلق تحریک پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح سے اپوزیشن کو قرارداد پر بات کرنے کا موقع مل سکے گا۔

