لاہور(ڈیلی گرین گوادر)، سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے آذربائیجان میں خواتین کے حجاب پر پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حجاب مسلم عورت کا بنیادی دینی، انسانی اور شخصی حق ہے، جسے کسی قانون یا حکومتی حکم کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوریت، آزادی اور انسانی حقوق کے دعوے اس وقت بے معنی ہو جاتے ہیں جب خواتین کو اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کے حق سے محروم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر باحجاب طالبات کو ہراساں کرنا اور ان کے لباس کو جواز بنا کر ان کے تعلیمی و سماجی مواقع محدود کرنا مذہبی آزادی اور انسانی وقار کے منافی ہے۔ حجاب کوئی رکاوٹ نہیں بلکہ مسلمان عورت کی دینی شناخت، عفت اور آزادانہ انتخاب کا اظہار ہے۔ ریاستی جبر اور امتیازی پابندیاں خواتین کے ایمان اور اپنے عقائد پر عمل کرنے کے عزم کو ختم نہیں کر سکتیں۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے مطالبہ کیا کہ آذربائیجان کی حکومت حجاب پر عائد پابندیاں فوری ختم کرے، باحجاب طالبات اور خواتین کو ہراسانی اور امتیازی سلوک سے تحفظ فراہم کرے اور مذہبی آزادی کے عالمی اصولوں کا احترام یقینی بنائے۔ انہوں نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور مسلم ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر مؤثر آواز اٹھائیں اور مسلم خواتین کے مذہبی و بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں۔انہوں نے واضح کیا کہ آزادی کا حق سب کے لیے ہے؛ مذہبی آزادی سے محروم کرکے کسی معاشرے میں حقیقی جمہوریت قائم نہیں کی جا سکتی۔ مسلم خواتین کے حجاب کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

