کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)سابق وزیر اعلی بلوچستان چیف آف ساراوان نواب اسلم خان رئیسانی نے بلوچستان کی وحدت اور جغرافیائی سالمیت کے حوالے سے اپنے دوٹوک موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان بلوچ قوم کی شناخت، تاریخ اور وطن ہے اور بلوچ قوم اپنے وطن کی کسی بھی قسم کی تقسیم کو ہرگز قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے یہ بات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہی نواب اسلم خان رئیسانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی وحدت اور جغرافیائی سالمیت بلوچ قوم کے لیے محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ بلوچوں کی قومی شناخت، تاریخی وجود اور اجتماعی تشخص کا بنیادی حصہ ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کی سرزمین بلوچ قوم کے تاریخی، ثقافتی اور قومی تشخص سے گہرا تعلق رکھتی ہے، اس لیے اس کی وحدت کو برقرار رکھنا ایک بنیادی قومی تقاضا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایکس پر جاری بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے اور بلوچستان کی سرزمین بلوچوں کی اجتماعی شناخت کا مرکز رہی ہے۔ ان کے بقول کسی بھی انتظامی یا جغرافیائی تبدیلی کو بلوچ قوم کے تاریخی اور قومی احساسات کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ بلوچستان کی وحدت کا معاملہ بلوچ عوام کے لیے انتہائی حساس اور اہمیت کا حامل ہے نواب اسلم رئیسانی نے اپنے بیان میں اس امر پر زور دیا کہ بلوچستان کو تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کو بلوچ قوم کی جانب سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کی وحدت اور جغرافیائی سالمیت کے تحفظ کے لیے بلوچ قوم کا مقف واضح اور اصولی ہے اور اسے محض سیاسی مفاد یا وقتی حالات کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان کی وحدت بلوچ قوم کے لیے صرف ایک انتظامی یا سیاسی تصور نہیں بلکہ اس کا تعلق بلوچ قوم کی قومی شناخت اور اجتماعی وجود سے ہے۔ ان کے مطابق ایک قوم، ایک وطن اور مشترکہ تاریخی شناخت کا تصور بلوچ قوم کے سیاسی و قومی احساسات میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی جغرافیائی سالمیت برقرار رہنا ضروری ہے کیونکہ کسی بھی خطے کی شناخت صرف اس کی موجودہ انتظامی حدود سے متعین نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے تاریخ، ثقافت، زبان، روایات اور لوگوں کے اجتماعی جذبات بھی شامل ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے معاملے میں یہ تمام عناصر بلوچ قوم کے تاریخی شعور سے منسلک ہیں ان کا کہنا تھا کہ بلوچ عوام بلوچستان کو اپنی تاریخی سرزمین اور وطن سمجھتے ہیں، اس لیے بلوچستان کے حوالے سے ہونے والے ہر فیصلے میں وہاں کے عوام کے جذبات، تاریخی پس منظر اور قومی مفادات کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے نواب اسلم خان رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں اور خطوں کی اپنی تاریخی اہمیت ضرور ہے، تاہم بلوچ قوم کے لیے پورا بلوچستان ایک مشترکہ تاریخی اور قومی وطن کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی تقسیم سے پیدا ہونے والے مسائل صرف سیاسی سطح تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات معاشرتی، ثقافتی اور قومی سطح پر بھی مرتب ہوتے ہیں اپنے بیان کے اختتام پر نواب اسلم خان رئیسانی نے واضح الفاظ میں اپنا نعرہ پیش کرتے ہوئے کہا: “ایک بلوچ قوم، ایک بلوچ وطن”۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ قوم کی قومی شناخت اور اس کے وطن کا تصور ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی وحدت اور جغرافیائی سالمیت بلوچ قوم کے اجتماعی مستقبل سے جڑی ہوئی ہے اور اس معاملے پر بلوچ قوم کا مقف واضح ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے بارے میں کسی بھی ایسے اقدام کو جو اس کی وحدت یا جغرافیائی سالمیت کو متاثر کرے، بلوچ قوم کے قومی جذبات کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔
بلوچستان بلوچ قوم کی شناخت، تاریخ اور وطن ہے، تقسیم قبول نہیں کریں گے، نواب اسلم رئیسانی

ٹیگز:
نواب اسلم رئیسانی
