کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے ترجمان نے گورنر بلوچستان و چانسلر جامعات کے حالیہ بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واقعی صوبے کی جامعات میں اساتذہ کو تحفظ فراہم کرنا اور برین ڈرین جیسے سنگین مسئلے کا سدباب کرنا مقصود ہے تو محض بیانات سے کام نہیں چلے گا بلکہ ٹھوس اور مؤثر عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ گورنر بلوچستان کی جانب سے اساتذہ کو دیگر صوبوں کے مساوی مراعات دینے کی بات قابلِ تحسین ہے، تاہم زمینی حقائق اس دعوے کے برعکس نظر آتے ہیں۔ترجمان کے مطابق صوبے کی جامعات میں اساتذہ اور دیگر ملازمین کو ماضی میں منظور شدہ مختلف الاؤنسز بتدریج ختم کیے جا رہے ہیں، جن میں اردلی الاؤنس، یوٹیلیٹی الاؤنس اور دیگر مالی سہولیات شامل ہیں۔ مزید برآں یونیورسٹی کالونی میں رہائش پذیر ملازمین سے باقاعدگی کے ساتھ مینٹیننس کے نام پر کٹوتیاں تو کی جا رہی ہیں، لیکن اس کے عوض کسی قسم کے ترقیاتی یا مرمتی کام دکھائی نہیں دیتے۔ ان پالیسیوں کے باعث اساتذہ اور ملازمین کی مجموعی آمدنی میں تقریباً تیس فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں شدید اضطراب اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔تحفظ کے حوالے سے ترجمان نے حالیہ افسوسناک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خاران کیمپس میں بلوچستان یونیورسٹی کے ایک نوجوان استاد، پروفیسر دلاور خان، کو دورانِ ڈیوٹی شہید کر دیا گیا جبکہ دو دیگر اساتذہ زخمی ہوئے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس سانحے پر نہ تو صوبائی حکومت، نہ چانسلر جامعات اور نہ ہی وائس چانسلر کی جانب سے کوئی باضابطہ تعزیتی بیان جاری کیا گیا، اور نہ ہی متاثرہ خاندان کی مالی امداد کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات کیے گئے۔اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے اپنے مطالبات میں کہا ہے کہ گورنر بلوچستان، چانسلر جامعات اور صوبائی حکومت فوری طور پر جامعات کو درپیش مالی بحران کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں۔ بالخصوص یونیورسٹی کے پنشنرز کو گزشتہ پانچ برسوں سے واجب الادا رقوم کی فوری ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور ملازمین کے تمام منظور شدہ الاؤنسز—بشمول یوٹیلیٹی الاؤنس، اردلی الاؤنس، ہارڈ ایریا الاؤنس اور کمپیوٹر الاؤنس کو ختم کرنے کے بجائے بحال رکھا جائے۔ترجمان نے مزید زور دیا کہ ملک کے دیگر صوبوں کی جامعات میں اساتذہ کو جو سہولیات اور مراعات حاصل ہیں، وہی معیار بلوچستان کی جامعات میں بھی نافذ کیا جائے تاکہ قابل اور باصلاحیت اساتذہ کی ہجرت (برین ڈرین) کو روکا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان اہم معاملات کو محض بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے فوری، سنجیدہ اور عملی اقدامات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔آخر میں اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ شہید پروفیسر دلاور خان کو سرکاری سطح پر شہید کا درجہ دیا جائے، کیونکہ انہوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران جان کا نذرانہ پیش کیا۔ مزید یہ کہ ان کے اہلِ خانہ کے لیے فوری مالی امداد کا اعلان کیا جائے اور صوبے کی تمام جامعات میں اساتذہ کے لیے مؤثر سیکیورٹی اور مکمل تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
گورنر بلوچستان کی جانب سے اساتذہ کو دیگر صوبوں کے مساوی مراعات دینے کی بات قابلِ تحسین ہے، تاہم زمینی حقائق اس دعوے کے برعکس نظر آتے ہیں،ترجمان اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن

ٹیگز:
اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن
