وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے سائنرجیکو ریفائنری سے 47 ارب روپے کے پیٹرولیم لیوی بقایاجات کی وصولی کے منصوبے، اور گیس پر عائد کیپٹو لیوی سے حاصل فنڈز کو بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دے دی۔نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس نے ملتان سے راولپنڈی تک تیل کی پائپ لائن کی تعمیر کے منصوبے کی بھی منظوری دی، جو آذربائیجان کی شراکت داری میں مکمل ہوگا۔کیپٹو لیوی، جو حکومت کے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے معاہدے کا حصہ ہے، صنعتی یونٹس کے کیپٹو پاور پلانٹس کو فراہم کی جانے والی گیس اور آر ایل این جی پر لاگو ہوتی ہے۔یہ یکم جولائی سے متعارف کرائی گئی، جس کا آغاز نوٹیفائیڈ ٹیرف سے 5 فیصد زیادہ شرح پر ہوا، جو یکم اگست سے 10 فیصد، یکم فروری 2026 سے 15 فیصد اور یکم اگست 2026 سے 20 فیصد تک بڑھائی جائے گی، پارلیمنٹ کے ایک قانون میں لازمی قرار دیا گیا ہے کہ اس لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن کو صرف بجلی کے تمام صارفین کے نرخ کم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔لیوی کے نفاذ کے بعد بعض بااثر کاروباری گروپوں نے کوشش کی کہ یہ فنڈز صرف صنعتی شعبے کے بجلی نرخوں میں کمی کے لیے مختص ہوں، تاہم پاور ڈویژن نے مزاحمت کی اور کیپٹو لیوی ایکٹ کے تحت تمام صارفین کو فائدہ پہنچانے کی قانونی ذمہ داری کا حوالہ دیا۔
حکومت کی47 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کے بقایاجات کی وصولی کی منظوری

