اسلا آباد /کوئٹہ:پختونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ خوشال خان کاکڑ کا کہنا ہے کہ حقوق ووٹ کے ذریعے، نعرے (زندہ باد مردہ باد) کے ذریعے اور پْرامن جدوجہد کے ذریعے حاصل ہونے چاہئیں۔ انہوں نے اسلام اباد میں ایک خصوصی انٹرویو میں کہا پی کے نیپ پْرامن سیاسی جدوجہد کو ترجیح دیتی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ جو بھی اپنے حقوق کی بات کرے، وہ پْرامن طریقے سے کرے۔ باقی بلوچ قوم اپنی مرضی کی پابند ہے۔ کاکڑ نے کہا کہ ہمارا اور بلوچ قوم کا تعلق صدیوں پرانا ہے، ہماری تاریخ ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ پشتون خواہ پی کے میپ ہو یا کوئی اور، بلوچ قوم کی معاشی، ثقافتی اور جدوجہد میں ہم ان کے ساتھ ہیں۔ جب خوشال کاکڑ سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں بلوچستان مسئلے کا حل کیا ہے کیونکہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور اختر مینگل دونوں کہتے ہیں کہ اب یہ معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ آپ کی نظر میں حل کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے غلط اقدامات کیے۔ وہ کہتے ہیں ہم بات چیت کرتے ہیں، مذاکرات کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بلوچ قوم صاف صاف اپنے حق کی بات کرتی ہے۔ وہ حقِ حاکمیت اور حقِ ملکیت مانگتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے وطن پر حکومت کرنا ہمارا حق ہے، ہمارا منتخب نمائندہ ہماری پالیسیاں بنائے۔ جب تک یہ حق نہیں ملے گا، مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں یہ صرف بلوچ قوم کا نہیں بلکہ سندھی، بلوچ اور پشتون سب کا مسئلہ ہے۔ سب کو پنجاب کی طرح برابر حقوق ملنے چاہئیں۔ اس سوال پر کہ کیا کالعدم کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں کیونکہ عمران خان نے بھی ان سے مذاکرات کیے لیکن وہ ناکام ہوئے اور پھر جنگ شروع ہوگئی تو پختونخوا نیپ کے سربراہ نے کہا کہ ہم ہر اْس پالیسی کے خلاف ہیں جو طالبان یا دہشت گرد پیدا کرے۔ ہم پاکستان کی “ڈیپ اسٹیٹ پالیسی” اور “اسٹریٹجک ڈپتھ پالیسی” کے بھی خلاف ہیں۔ ہم ان پالیسیوں کے بھی مخالف ہیں جو کبھی امریکہ کے لیے، کبھی روس کے خلاف اور کبھی چین کے خلاف جنگ کے لیے ہمارے وطن کو جنگ کا میدان بناتی ہیں اور ہمارے لوگوں کو قتل کرواتی ہیں۔ ہم سب سے پہلے یہ پوچھتے ہیں کہ یہ دہشت گرد کیسے آئے؟ انہیں کس نے بنایا؟ ان کے پیچھے مقصد کیا تھا؟ پہلے اس پر بات ہونی چاہیے۔ بعد میں یہ سوال آئے گا کہ مذاکرات کرنے ہیں یا نہیں۔ خوشال کاکڑ نے کہا کہ افغانستان میں جو کچھ ہوا لوگ اسے مختلف رنگ دیتے ہیں، لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہ دراصل امریکہ اور چین کی بڑھتی ہوئی کشمکش کا آغاز ہے۔ امریکہ ہمارے وطن کو استعمال کرنا چاہتا ہے، مگر ہم کہتے ہیں پاکستان کو غیر جانبدار رہنا چاہیے اور امریکہ کو خوش کرنے کے لیے دہشت گردی کو ہوا نہیں دینی چاہیے۔ اپنی پارٹی بنانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پہلی بات یہ ہے کہ یہ پارٹی ہم نے خود الگ نہیں کرنی چاہی تھی اور نہ ہی ہمارا مقصد تھا کہ ہم پارٹی کو الگ کریں۔ ہمیں اس پارٹی سے نکالا گیا۔ ایک ہی دن میں پانچ ہزار سرگرم کارکنوں اور قیادت کو پارٹی سے نکال دیا گیا۔نکالے گئے افراد میں تقریباً 70 فیصد مرکزی کمیٹی کے لوگ شامل تھے۔ ان کے علاوہ ایسے کارکن بھی شامل تھے جو خان شہید کے دور سے پارٹی کے ساتھ وابستہ تھے۔ انہیں بھی نکال دیا گیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم نے جو کچھ حاصل کیا وہ دراصل پارٹی کے اندر دس سال سے جاری بحران کے بعد ممکن ہوا۔ اس بحران نے پارٹی، تنظیم اور پارٹی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ ہم نے پارٹی کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کیا، پارٹی کو فعال بنایا، یونٹس کو بحال کیا اور تنظیم کو متحرک کیا۔ آج پشتون افغان قوم کو درپیش ہر مسئلے پر—چاہے وہ مہاجرین کا معاملہ ہو، مردم شماری ہو، دہشت گردی ہو یا قومی وحدت—ہماری پارٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ مزید یہ کہ ہم نے بلوچستان میں قوم پرست جماعتوں کا ایک گرینڈ الائنس قائم کیا ہے اور اب ہم کوشش کر رہے ہیں کہ مرکز کی سطح پر بھی ایسا اتحاد بنے تاکہ سب جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور قوم کو درپیش مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ جب خوشال کاکڑ سے پوچھا گیا کہ پشتون کے حقوق کی بات کرنے والے اے این پی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، منظور پشتین، محسن داوڑ اور خوشحال کاکڑ تقسیم کیوں ہیں تو انہوں نے کہا کہ سیاست کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سب کچھ ایک ہی پارٹی کے زیرِ سایہ ہو۔ ہر پارٹی کا اپنا آئین، اپنا منشور اور اپنے اہداف ہوتے ہیں۔ اے این پی کے الگ اہداف ہیں، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے الگ، پی ٹی ایم کے الگ۔ لیکن
بلوچ قوم کی معاشی، ثقافتی اور جدوجہد میں ہم ان کے ساتھ ہیں، خوشال خان کاکڑ

