ڈیرہ مرادجمالی(ڈیلی گرین گوادر)سندھ کے ضلع ٹھٹہ گھارو تحصیل سے تعلق رکھنے والے پریمی جوڑے عبدالرحمن بھٹو اوربینظیر نے ڈیرہ مراد جمالی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور سٹی کورٹ کراچی میں اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے۔ ہمیں رشتے داروں سے جان کا خطرہ ہے تحفظ دیا جائے۔ مسمات بینظیر ولد الطاف شاہ نے میڈیا کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ میرے شوہر عبدالرحمن بھٹو کو میرے والدین نے تین سال قبل رشتہ دیا عبدالرحمن بھٹو تین سال سے میرے والدین کو گھر کا مکمل خرچہ دیتا رہا۔ اور شادی کے لیے کہتا رہا۔مگر میرے والدین آسرا دیتے رہے مگر شادی نہیں کروائی اور معلوم ہوا کہ میرے والد دوسری جگہ کسی بوڑھے شخص سے میری زبردستی شادی کروانا چاہتے تھے۔اس لیئے میں نے اپنے ہوش حواس اور اپنی خوشی و رضامندی سے عبدالرحمن سے عدالت میں نکاح کرلیا ہے جبکہ میرے رشتے داروں نے عبدالرحمن پر ناجائز اغواء کا کیس داخل کروایا ہے سندھ حکومت سے گزارش کرتے ہیں کہ ناجائز ایف آئی آر کو ختم کیا جائے۔ مجھے اور میرے شوہر کو میرے والد الطاف شاہ، بھائی سلطان شاہ، بہنوئی خالد سولنگی،عبدالعزیز سولنگی اور میرے ماموں فدا حسین شاہ سے جان کا خطرہ ہے وہ ہمیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ہم وزیر اعلی سندھ سید مراد علی آئی جی سندھ اور ایس ایس پی ٹھٹہ سمیت حکام بالا سے اپیل کرتے ہیں کہ میرے شوہر عبدالرحمن اور ان کے بھائی اور دیگر رشتے داروں کے خلاف ناجائز ایف آئی آر کو ختم کی جائے اور ہمیں تحفظ فراہم کی جائے تاکہ ہم اپنی زندگی خوشی سے گزار سکیں۔
سٹی کورٹ کراچی میں اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے،رشتے داروں سے جان کا خطرہ ہے تحفظ دیا جائے،عبدالرحمن بھٹو،بینظیر

ٹیگز:
عبدالرحمن بھٹو،بینظیر
